روس توانائی کی عالمی مارکیٹ میں ’کسی کے خلاف‘ کام نہیں کررہا:پوتین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس کے صدرولادی میرپوتین نے منگل کے روز واضح کیا ہے کہ ان کا ملک توانائی کی عالمی مارکیٹ میں کسی کے خلاف کام نہیں کر رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زایدآل نہیان سے منگل کے روز گفتگو کرتے ہوئے پوتین نے کہا کہ روس کا مقصد توانائی کی منڈیوں میں استحکام پیدا کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ رسد اورکھپت ایک توازن قائم ہو۔

انھوں نے سینیٹ پیٹرزبرگ میں اس ملاقات میں کہا کہ ہم اوپیک پلس کے فریم ورک کے اندر بھی فعال طور پر کام کر رہے ہیں۔ہمارے اقدامات اورہمارے فیصلے کسی کے خلاف نہیں۔ ہم ایسا کوئی اقدام نہیں کریں گے جس سے کسی کے لیے مسائل پیدا ہوں۔

انھوں نے واضح کیا کہ ہمارے اقدامات کا مقصد توانائی کی عالمی منڈیوں میں استحکام پیدا کرنا ہےتاکہ توانائی کے وسائل کے صارفین اور پیداوار میں شریک افراد اورعالمی منڈیوں میں برآمدکنندگان مطئمن ہوں ۔ وہ خود کوپرسکون، مستحکم اور پراعتماد محسوس کریں تاکہ طلب اور رسد میں توازن برقراررہے۔

گذشتہ ہفتے امریکا نے اوپیک پلس کی جانب سے تیل کی پیداوار میں تیزی سے کمی کے فیصلے پر تنقید کی تھی۔اوپیک پلس کے اس اقدام پر صدربائیڈن کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیاتھا اور وہ توانائی کی پالیسی پر امریکا اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی دراڑ کی نشان دہی کرتا ہے۔

صدرجوبائیڈن نے اپنی انتظامیہ اور کانگریس پر زوردیا کہ وہ امریکاکی توانائی کی پیداوار کو فروغ دینے اور اوپیک کے توانائی کی قیمتوں پر کنٹرول کو کم کرنے کے طریقوں کو تلاش کریں۔

کریملن نے اتوارکے روز اوپیک پلس کے پیداوار میں کٹوتی پراتفاق رائے کو سراہا تھا۔اس کا کہنا ہے کہ روس کی قیادت میں غیراوپیک اور سعودی عرب کی قیادت میں اوپیک ممالک پر مشتمل اس گروپ نے توانائی کی عالمی منڈیوں میں امریکا کی پیدا کردہ تباہی اور مسائل کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں