روس اور یوکرین

زیلنسکی کاجی7 سے فضائی دفاعی نظام اوربیلاروس کی سرحد پرمبصرمشن کی حمایت کامطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یوکرین کے صدر ولودی میرزیلنسکی نے گروپ سات کے رہ نماؤں سے روس کی جارحیت کو روکنے کے لیے مزید فضائی دفاعی صلاحیتیں مہیا کرنے کا مطالبہ کیا ہے اوران پر زوردیا ہے کہ وہ بیلاروس کی سرحد پر بین الاقوامی مبصر مشن کی تعیناتی کے لیے ان کے اقدام کی حمایت کریں۔

زیلنسکی نے دارالحکومت کیف سمیت یوکرین کے شہروں پرروس کے میزائلوں کی بارش کے ایک روز بعد جی سیون کے رکن ممالک کے رہ نماؤں کے ورچوئل اجلاس میں شرکت کی ہے۔انھوں نے ماسکوکے خلاف سخت نئی پابندیاں عاید کرنے کا مطالبہ کیا اور ایک بار پھرروسی صدر ولادی میرپوتین کے ساتھ مذاکرات سے انکار کیا ہے۔

انھوں نے جرمن چانسلراولف شولز کا آئرس ٹی دفاعی نظام مہیا کرنے پرشکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جب یوکرین کو یہ جدید اورمؤثر فضائی دفاعی نظام مل جائے گا تو روس کی دہشت گردی کا کلیدی عنصر(راکٹ حملے)کام کرنا بند کردے گا۔

انھوں نے کہا:’’ہم امید کرتے ہیں،یہ درمیانے سے طویل فاصلے تک مارکرنے والے مؤثرنظام ہوں گے، جو مختلف دفاعی ڈھالوں کے نظام کی تخلیق کی اجازت دیں گے‘‘۔

یوکرین کے مغربی اتحادیوں نے فروری میں روس کے حملے کے بعد سے کیف کومالی امداد اور بھاری ہتھیارمہیاکیے ہیں۔زیلنسکی کی حکومت نے ان سے زیادہ طاقتورہتھیاراور ان کی تیز رفتار ترسیل کی درخواست کی ہے اور اس کے ساتھ ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

بیلاروس نے رواں ہفتے اعلان کیا تھا کہ یوکرین کے قریب روسی افواج کے ساتھ اس کے فوجی تعینات کیے جائیں گے، جس سے جنگ میں مزید شدت کا اشارہ ملتا ہے۔ اب تک بیلاروس یوکرین پر روس کےحملے کا میدانی اسٹیج ہی رہا ہے اور اس نے عملاً جنگ میں شرکت نہیں کی۔

زیلنسکی نے اس کے کردار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین کا بیلاروس پر حملہ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں لیکن وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ اس کو شمال میں واقع پڑوسی سے کوئی خطرہ نہ ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’یوکرین اوربیلاروس کی سرحد پر ہم بین الاقوامی مبصرین کا ایک مشن تعینات کر سکتے ہیں تاکہ سلامتی کی صورت حال پر نظر رکھی جاسکے۔اس کے لیے ہمارے سفارت کارکام کر سکتے ہیں۔ میں جی سیون کی سطح پر آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ اس اقدام کی حمایت کریں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں