صدر ایردوآن یوکرین کے ساتھ روس کے مذاکرات میں ثالثی کی ’باضابطہ‘پیش کش کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترک صدررجب طیب اردوان قزاقستان میں روسی ہم منصب ولادی میرپوتین سے اپنی آیندہ ملاقات میں یوکرین میں جاری تنازع کے حل کے لیے ثالثی کی ’’باضابطہ‘‘ پیش کش کریں گے اور وہ ممکنہ طور پر دونوں ملکوں کے درمیان امن مذاکرات کی میزبانی کریں گے۔

یہ بات کریملن کی خارجہ پالیسی کے مشیریوری اوشاکوف نے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو میں کہی ہے۔انھوں نے بتایاکہ’’ترکی (دونوں متحارب ممالک میں) ثالثی کی پیش کش کررہا ہے۔اگرکوئی بات چیت ہوتی ہے تو زیادہ امکان یہ ہے کہ وہ ترکی کے شہراستنبول یا انقرہ میں ہوگی‘‘۔

معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے رکن ترکی کے یوکرین اور روس،دونوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور اس نے جنگ کے دوران میں تعلقات کو متوازن رکھنے کی کوشش کی ہے۔اس نے ماسکو پر مغرب کی پابندیوں کو مسترد کیا ہے،یوکرین پر روسی فوج کے حملے پر تنقید کی ہے جبکہ یوکرین کو مسلح ڈرون بھی مہیا کیے ہیں۔

ترکی نے اقوام متحدہ کے ساتھ مل کرجولائی میں یوکرین سے غلے کوبیرون ملک بھجوانے کے لیے ایک معاہدہ طے کرایا تھا۔اس کے تحت بحیرۂ اسود کی بندرگاہوں سے یوکرین کے اناج کی برآمدات شروع ہوئی تھیں اوریہ سات ماہ سے جاری تنازع میں واحد اہم سفارتی پیش رفت ہے۔

انقرہ کے روس کے ساتھ تعلقات پیچیدہ نوعیت کے ہیں اور دونوں ممالک توانائی میں قریبی تعاون کر رہے ہیں جبکہ شام، لیبیا اورآذربائیجان کے معاملے پران میں اختلافات ہیں اور دونوں ان ممالک کے تنازعات میں متحارب فریقوں کی حمایت کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں