روس اور یوکرین

پوتین نے یورپ کے سب سے بڑے جوہری پلانٹ پر بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کر دی

جوہری امور کے بین الاقوامی ادارے کے سربراہ نے فوری حفاظتی زون بنانے کا کہہ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس اور یوکرین جوہری پلانٹوں کے پاس حملوں کا ایک دوسرے کو الزام دیے جانے پر جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے 'آئی اے ای اے' کے متحرک ہونے کے بعد صدر ولادی میر پوتین نے بین الاقوامی ادارے کے ساتھ تعاون کا عندیہ دیا ہے۔

روسی صدر ولادی میر پوپتین کی آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی کو بتایا کہ وہ روسی قبضے میں لیے گئے یوکرینی علاقے کے جوہری پلانٹ کے بارے میں بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ بین الاقوامی جوہری ادارے کے سربراہ رافیل گروسی کی اس سے قبل یوکرینی صدر ولادی میر زیلنسکی سے بھی ملاقات کر چکے ہیں۔

واضح رہے کہ روسی قبضے میں لیے گئے شہر زاپوری زہزیا یورپ کا سب سے بڑا جوہری پلانٹ ہے۔ اس کی حساسیت اس حوالے سے مزید بڑھ گئی ہے کہ یہ شہر جنگ زدہ ہو کر ایک ملک سے دوسرے ملک کے قبضے میں جانے کے بعد بھی حملوں کی زد میں ہے۔

اب رافیل گروسی کے ساتھ بات چیت میں ولادی میر پوتین نے براہ راست یوکرین کے ساتھ بات چیت کے لیے آمادگی طاہر کی ہے۔ گروسی کی اس سے پہلے صدر زیلنسکی سے ملاقات گذشتہ ہفتے ہوئی تھی۔ تاکہ یورپ کے اس سب سے بڑے جوہری پلانٹ اور جڑے علاقوں کے لیے ایک حفاظتی زون کی تشکیل پر بات ہو سکے۔

گروسی کی حالیہ ہفتوں میں دونوں طرف کے ذمہ داروں سے ہونے والی ملاقاتوں میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ جلد سے جلد حفاظتی زون کا اہمتام کر لیا جائے۔

گورسی کے مطابق زاپوریزہزیا کے ارد گرد خطرے میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔ یہ صورت حال بڑی چیلنجنگ بھی ہے اور الارمنگ بھی ہے۔' مسلسل ہونے والے حملوں نے معاملے کی سنگینی اور بھی بڑھا دی ہے۔

اس صورت حال کے بارے میں گروسی نے مزید کہا ' ہم اس بارے میں مزید وقت ضائع کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے ہیں۔ خطرات زیادہ ہیں۔ اس لیے کسی بھی جوہری حادثے سے بچنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔


روسی صدر ولادی میر کے اس موقف پر کہ جوہری پلانٹ کے لیے بات کرنے کو وہ تیار ہیں یوکرینی صدر زیلنسکی یا ان کی ملک کی طرف سے ابھی کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں