روس اور یوکرین

پوپ فرانسیس کی یوکرین کے شہروں پر روس کی بمباری کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

رومن کیتھولک کے روحانی پیشوا پوپ فرانسیس نے یوکرین کے شہروں پرروس کے ’’بلاتعطل بمباری‘‘ کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ان فضائی حملوں کے ذریعے مکینوں پر’’تشدد کا طوفان‘‘ برپا کردیا گیا ہے۔

سینٹ پیٹرزاسکوائر، ویٹی کن سٹی میں ہفتہ واراجتماعِ عام میں ہزاروں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے ’’ان لوگوں سے بھی اپیل کی ہے جن کے ہاتھوں میں جنگ کی قسمت ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں کو روک دیں‘‘۔

روس نے فروری میں حملے کے آغاز کے بعد سے یوکرین میں اب تک کی بڑی فضائی کارروائی کی ہے اوراس کے راکٹ اور میزائل حملوں کے نتیجے میں یوکرین میں 26 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ملی ہے۔

پوپ فرانسیس نے کہا کہ ’’میرادل ہمیشہ یوکرین کے عوام کے ساتھ رہا ہے، خاص طورپران مقامات کے مکینوں کے ساتھ جو مسلسل بم دھماکوں کی زد میں آئے ہوئے ہیں‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’خدا کی روح ان لوگوں کے دلوں کو تبدیل کرے جن کے ہاتھوں میں جنگ کی قسمت کا فیصلہ ہے، تاکہ تشدد کا طوفان رک جائے اورمبنی برانصاف پرامن بقائے باہمی کا ماحول دوبارہ تعمیرکیاجاسکے‘‘۔

یوکرین کے حکام کا کہنا ہے کہ پیر کے روزروس کے میزائل حملوں میں 19 افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے اور ملک بھر میں بجلی کی ترسیل معطل ہو گئی تھی۔ منگل کے روز جنوب مشرقی قصبے زاپوریژیا میں ہونے والے مزید حملوں میں سات افراد ہلاک ہو گئے اور مغربی شہر لویو کا ایک حصہ بجلی سے محروم ہوگیا۔

روس یوکرین میں اپنے فوجی آپریشن میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے سے انکارکرتاچلا آرہا ہے۔اس نے مغرب پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ کیف کی حمایت کرکے تنازع کو بڑھاوا اوراسے طول دے رہا ہے۔

پوپ فرانسیس نے 10 روزقبل پہلی بارروسی صدر ولادی میرپوتین سے براہ راست مطالبہ کیا تھا کہ وہ’’تشدداورموت کے طوفان‘‘ کو روکیں۔انھوں نے کہا تھا کہ اس بحران سے کنٹرول سے باہرعالمی مضمرات کے خطرات پیدا ہورہے ہیں۔

ادھرایمسٹرڈیم میں انٹرنیشنل موبائل جسٹس کی ٹیموں کے پراسیکیوٹرز کیف اور یوکرین کے دوسرے شہروں میں روس کے میزائل حملوں کی ممکنہ جنگی جرائم کے طورپرتحقیقات کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں