امریکی قومی سلامتی کے سابق مشیرکی پوتین کوقاسم سلیمانی کی طرز پرقتل کی دھمکی

"قاسم سلیمانی سے پوچھو،پوتین نے جوہری ہتھیار چلائے تو واشنگٹن کیا کرے گا؟:بولٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکا کی قومی سلامتی کے سابق مشیرجان بولٹن نے منگل کو کہا ہے کہ اگر روس نے یوکرین میں جوہری ہتھیاروں کا استعمال کیا تو امریکا روس کے صدر ولادیمیر پوتین کو "قتل" کر سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام "ان[پوتین] کے خودکشی نوٹ پر دستخط کرنے" کے مترادف ہوگا۔

انہوں نے برطانوی ریڈیو اسٹیشن ’ایل بی سی نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے مزید کہا کہ ’’ہمیں یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر پوتین ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار کے استعمال کا حکم دیتے ہیں تو وہ اپنے خودکشی نوٹ پر دستخط کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا "مجھے لگتا ہے کہ اگر وہ سخت حالات کے دباؤ میں ہے تو اسے روکنے کے لیے یہی کچھ کرنا پڑے گا۔"

بولٹن نے مزید کہا کہ "آپ ایران میں قاسم سلیمانی سے پوچھ سکتے ہیں کہ کیا ہوا؟ جب ہم نے فیصلہ کیا کہ کوئی امریکا کے لیے خطرہ ہے۔" سلیمانی 2020 میں بغداد میں امریکی حملے میں مارے گئے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "میرے خیال میں جب بھی ہم جوہری ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال کے بارے میں سوچتے ہیں، ہمیں اسے بہت سنجیدگی سے لینا چاہیے، لیکن میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ ہمیں اس بارے میں بہت واضح ہونا چاہیے۔"

بولٹن نے کہا کہ "ہم یوکرین یا ایران اور شمالی کوریا جیسےدہشت گرد ملک میں جوہری ہتھیار چلانے کی اجازت نہیں دے سکتے اور نہ ہی چین یا روس کو ایسا کرنے کی اجازت دیں گے اگر کوئی ملک ایسا کرتا ہے تو اس کا حکم دینے والا اس کے نتائج کا مکمل ذمہ دار ہوگا۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ یوکرین کے اندر روسی افواج، بحیرہ اسود کے بحری بیڑے اور دیگر کو تباہ کرنے کی بہت سی تجاویز ہیں۔ میں اس سے متفق نہیں ہوں لیکن جو شخص یہ فیصلہ کرے اسے شروع سے ہی روکنا چاہیے۔"

بولٹن نے اشارہ کیا کہ وہ پوتین کے تبصروں سے پریشان ہیں، جس میں انہوں نے گزشتہ ہفتے کہا تھا: "میں ایک ایسے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار کے استعمال کا تصور بھی نہیں کر سکتا جو آرمیگاڈون (دنیا کے خاتمے کی جنگ) کا باعث نہ بنے"۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے گذشتہ ہفتے نیویارک میں ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے فنڈ ریزنگ تقریب میں کہا تھا کہ روس کی جانب سے جوہری استعمال کی دھمکیوں نے انسانیت کو "دنیا کے خاتمے" کے خطرے میں ڈال دیا ہے۔

جوہری خطرے کے بارے میں بات کرتے ہوئے بائیڈن نے کہا کہ 1962ء میں کیوبا کے میزائل بحران کے بعد پہلی بارہمیں جوہری ہتھیار کا خطرہ ہے، اگر حقیقت میں چیزیں اسی راستے پر چلتی رہیں جس پر وہ چل رہے ہیں تو خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پوتین کو اچھی طرح جانتے ہیں اور جب وہ حکمت عملی، حیاتیاتی یا کیمیائی ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال کے بارے میں بات کرتے ہیں تو وہ مذاق نہیں کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں