انگور ڈیمنشیا کے خطرات کوکم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے:سائنسی تحقیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اس میں کوئی شک نہیں کہ انگور انسانی صحت کے لیے بے شمار اور متنوع فوائد کا حامل میوہ ہے۔

ایک نئی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ انگور کھانے سے ڈیمنشیا ہونے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ یہ دریافت، جو فوڈز جریدے میں شائع ہونے والے مطالعات کی ایک سیریز کے حصے کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اس تحقیق میں انگور کھانے سے انسانی صحت پر مرتب ہونے والے مثبت اثرات کی ایک وسیع فہرست شامل کی گئی ہے۔

اینٹی آکسیڈنٹس

یونیورسٹی آف ویسٹرن نیو انگلینڈ کے محققین کے مطابق انگور خاص طور پر ان لوگوں کے لیے فائدہ مند ہیں جو چکنائی سے بھرپور مغربی غذا استعمال کرتے ہیں، کیونکہ یہ پھل (قدرتی) کیمیائی مرکبات سے بھرپور ہوتے ہیں جو کہ صحت مند آنتوں کے بیکٹیریا اور کولیسٹرول کو کم کرتے ہیں۔

انگور میں اینٹی آکسیڈنٹس بھی زیادہ ہوتے ہیں، جو صحت کو بہتر بنانے اور بیماری اور کینسر سے بچنے کے لیے جانا جاتا ہے۔

اینٹی آکسیڈنٹس خلیوں کو جسم کے اندر آزاد ریڈیکلز کی وجہ سے ہونے والے نقصان سے بچاتے ہیں۔انفیکشن اور جسم کے باہر جیسے آلودگی، UV شعاعیں یا سگریٹ کے دھوئیں سے صحت پر مرتب ہونے والے اثرات کو بھی کم کرتے ہیں۔

جگر کے امراض

اب محققین کی ٹیم اس نتیجے تک پہنچی ہے کہ انگور میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس نیوران یا نیوران کے کام کو بہتر بنا کر دماغ کو ڈیمنشیا سے بچا سکتے ہیں۔

محققین کی ایک دوسری تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انگور کھانے سے فیٹی لیور کی بیماری پیدا ہونے کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے - یہ حالت جگر میں زیادہ چربی جمع ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے اور متوقع عمر میں پانچ سال کا اضافہ ہوتا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ کھانے کی غیر صحت مند عادات کی وجہ سے یہ کیفیت دنیا بھر میں صحت کا بڑھتا ہوا مسئلہ ہے۔ اگرچہ یہ شاذ و نادر ہی مہلک ہوتا ہے لیکن اگر علاج نہ کیا جائے تو یہ جگر کی ناکامی یا جگر کے کینسر کا باعث بن سکتا ہے۔

ٹیم کی تیسری تحقیق سے معلوم ہوا کہ انگورخوراک کو ہضم کرنےکے ساتھ ساتھ کیلوریز کو بھی جلاتے ہیں، جس کے نتیجے میں میٹابولزم کو بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں