حوثی ملیشیا نے ایک قبائلی سردارکو قتل کردیا،اس کے علاقے کےگھروں کا محاصرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے دارالحکومت صنعا کی ایک سڑک پر ایک قبائلی شیخ [سردار] کو قتل کر دیا اور اس کے علاقے کے لوگوں کے گھروں کا مکمل محاصرہ کر لیا۔

یمنی میڈیا ذرائع نے بتایا کہ منگل کے روز حوثی ملیشیا کے مسلح عناصرنے مآرب اسٹریٹ پر ایکسچینج مارکیٹ کے قریب الشیخ عادل عبداللہ شبیح الصرفی کی کار کو روکا اور ان کی کار پر شدید فائرنگ کی جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔

ذرائع نے بتایا کہ جرم کے ارتکاب کے بعد حوثی ملیشیا نے بنی حشیش کے علاقے صرف کے رہائشیوں کے گھروں کا محاصرہ کرنے کے لیے درجنوں افراد اور بکتر بند گاڑیوں پر مشتمل ایک حفاظتی مہم بھیجی۔ان عناصر نے مقامی شہریوں کا محاصرہ کرنے کے ساتھ گروں میں تلاشی بھی لی اور متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔

ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اس جرم کی ہدایت ملیشیا کے رہ نما ابو علی الحکیم نے دی تھی۔ جرم اس وقت سامنے آیا۔ متاثرہ شخص بنی حشیش کے صرف گاؤں میں زمینوں کا مالک ہے۔ حوثی ملیشیا اس کی اراضی پرقبضہ کرنا چاہتی ہے۔

ذرائع کے مطابق بنی حشیش کے صرف علاقے میں گذشتہ عرصے کے دوران حوثی گروپوں اور علاقے کے مسلح افراد کے درمیان تصادم دیکھنے میں آیا، حوثی رہ نماؤں کی جانب سے مکینوں کی ملکیتی بڑی زمینوں پر زبردستی قبضے کی کوششوں کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

گذشتہ تین سال کے دوران، حوثی ملیشیا نے اپنے کنٹرول والے علاقوں میں قبائلی رہ نماؤں اور ان کے وفادار رہنے والوں کی علامتوں کو ختم کرنے کے لیے تقریباً 30 کارروائیاں کیں۔

حوثی ملیشیا نے اپنے پیروکاروں کے سامنے قبائلی شیوخ اور معززین کی تذلیل کرنے کے طریقے بھی اپنائے، درجنوں مسلح افراد کے ساتھ ان کی رہائش گاہوں اور گھروں پر دھاوا بول کر انہیں قتل کیا اور انہیں ڈرایا دھمکایا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں