قاھرہ میں شاہ عبدالعزیز لائبریری کے ’’فورم برائے ترجمہ‘‘ کا افتتاح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

کنگ عبدالعزیز پبلک لائبریری کے جنرل سپروائزر فیصل بن معمر نے بدھ کو قاہرہ یونیورسٹی میں شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز انٹرنیشنل پرائز فار ٹرانسلیشن کے زیر اہتمام دسویں سائنسی فورم کا افتتاح کردیا۔ تقریب میں دونوں ملکوں کے حکام، دانشوروں اور ادیبوں سے شرکت کی۔

فیصل بن معمر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں امید ہے کہ یہ فورم مہذب مواصلات کو فروغ دینے، ثقافتوں کے علوم اور تجربات کی منتقلی کا سبب بنے گا اور عرب دنیا میں علم کی منتقلی میں کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا فورم میں ترجمے کے مسائل پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ سائنسی اور ثقافتی اداروں کے پروگرام اور سرگرمیاں ہی علم کی عالمگیریت کا پہلا راستہ ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترجمہ "ایک ایسی دنیا میں علم، آشنائی، ثقافتی تبادلے اور مکالمے کے لیے وسیع جگہ بناتا ہے جس کی بنیاد فرق اور تضاد پر رکھی گئی ہے۔

ترجمہ قوموں اور لوگوں کے درمیان پل بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اس لیے سائنسی اور ثقافتی خلا پر کام کرنے والے بہت سے عرب مفکرین نے کہا ہے کہ اشاعت اور ترجمے کی صنعتوں کی ترقی کے لیے ایک جامع اور متحد حکمت عملی پر مبنی وژن کا حصول ضروری ہے۔ انہوں نے کہا عربی سے دوسری زبانوں میں ترجمہ کئے جانے والے سائنسی علوم کی کمی کو دیکھا جا رہا ہے۔ اس کمی کو ختم کرنے کی ضورت ہے۔

پہلا سیشن

فورم کے پہلے اجلاس کی صدارت سپریم کونسل آف کلچر کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر ہشام عزمی نے کی۔ اس اجلاس میں نیشنل سینٹر فار ٹرانسلیشن کے ڈائریکٹر کرمۃ سامی اور ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ہیثم الناھی نے بھی شرکت کی۔

عبیکان لائبریری کے شعبہ اشاعت کے ڈائریکٹر محمد الفریح اور العربی میں اشاعت و ترجمہ کے ڈائریکٹر شریف اسماعیل نے خصوصی گفتگو کی۔

شرکا نے ثقافتی تنوع اور مختلف زبانوں کے درمیان ترجمے کی اہمیت، خاص طور پر انگریزی ادب اور عرب دنیا میں ترجمے کے مستقبل، علمی خواندگی کے جوہر اور تنوع کی اہمیت اور مترجم کیلئے متعدد شرائط کی پابندی کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا۔ شرکا نے کہا ترجمہ میں بے ترتیبی سے گریز کرنا لازم ہے۔

مقررین نے عربی مواد کو پھیلانے کے لیے بھرپور کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا مترجمین کو پریشان کرنے والے طریقہ کار کو ختم کیا جانا چاہیے۔

مصر میں سپریم کونسل برائے ثقافت کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر ہشام عجمی نے کہا کہ عرب دنیا میں تصنیف اور ترجمے کے درمیان وقت کے فرق کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر ہیثم الناھی نے کہا کہ ترجمہ عرب معاشروں کے علم کا مطالعہ کرنے پر کام کرتا ہے۔

دوسرا سیشن

فورم کے دوران دوسرا سیشن شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز انٹرنیشنل پرائز فار ٹرانسلیشن کی سائنسی کمیٹی کے رکن ڈاکٹر ابراہیم البلاوی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اس سیشن میں حمزہ قبلان المزینی اور سمیر متنا گرجیس نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں