کوہ نور ہیرے پر نئی بحث: بھارتی بی جے پی ماضی کی درد ناک یادوں میں لوٹ گئی

مگر کیا مغلوں سے لوٹا ہوا قیمتی ہیرا مودی سرکار واپس لے سکے گی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

برطانیہ کی نئی ملکہ کی باضابطہ تاجپوشی جس کا امکان اگلے سال مئی میں ہے۔ اس سے بہت پہلے برصغیر سے برطانیہ لے جایا گیا مشہور زمانہ کوہ نور ہیرا کئی دنوں سے خبروں کا موضوع بن ہوا ہے۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بی جے پی کے ایک ترجمان نے اس ہیرے کی باتوں کو از سر نو یاد کو 'درد ناک یادوں' کا نام دیا ہے۔

بی جے پی ترجمان کے مطابق ' نئی ملکہ برطانیہ کی تاجپوشی میں کوہ نور ہیرے کا استعمال کیا جانا ماضی کی نو آبادیاتی دردناک یادوں کو تازہ کر دیا ہے۔ بہت سارے ہندوستانی ماضی کے جبر کی بہت تھوڑی باتیں یاد رکھے ہوئے ہیں۔

ترجمان کے مطابق 'مگر ہماری نسلوں نے غیر ملکی حکمرانوں کو بھگتا ہوا ہے۔ اس لیے اب ملکہ الزبتھ دوم کے انتقال کے بعد ملکہ کمیلا کی امکانی تاجپوشی مین کوہ نور ہیرے کے استعمال کی خبریں ہم ہندوستانیوں کو ماضی میں لے گئی ہیں۔' دنیا کے چند بڑے ہیروں میں سے ایک متنازع ترین ہیرا 'کوہ نور' صدیوں سے توجہات کا مرکز رہا ہے۔

اب جبکہ برطانوی شاہ چارلس سوم کے ساتھ ان کی ملکہ کمیلا کی بھی چھ مئی کو تاجپوشی ہونے جا رہی ہے تو برطانیہ اور ہندوستان کے درمیان ایک پرانی بحث چل پڑی ہے۔

اخباری رپورٹس کے مطابق بکنگھم محل کمیلا کے بطور ملکہ تاج میں کوہ نور ہیرا جڑا جائے گا۔ جیسا کہ 1937 میں برطانوی ملکہ نے اپنے تاج میں سجایا تھا۔

لیکن ہندوستانیوں کی طرف سے ایک بار پھر اس مطالبے نے ملکہ الزبتھ کے انتقال کے ساتھ سر اٹھا لیا ہے کہ کوہ نور ہندوستانیوں کو واپس کیا جائے۔

ایک برطانوی اخبار ٹیلی گراف کو ذرائع نے بتایا ہے کہ شاہ چارلس اس بارے میں زیادہ حساس ہیں۔ اسی لیے تاجپوشی کی چیزوں کو ابھی تک زیادہ واضح نہیں رکھا گیا ہے۔

بہرحال 1840 میں انگریزوں کے ہتھے چڑھنے والا یہ ہیرا کئی بادشاہوں اور ملکاؤں کے محبت وفخر کا حوالہ بن چکا ہے۔ لیکن ان کے نام اس کوہ نور کے حوالے سے غائب ہیں جن کے پاس ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہندوستان آنے سے پہلے اقتدار تھا۔ یعنی ہندوستان کے وہ مسلمان اور مغل حکمران، جن سے برطانیہ نے ہیرا چھینا یا لوٹا تھا۔

لیکن بی جے پی کی سرکار درد ناک یادوں کا ذکر تو کر رہی ہے کیا یہ برطانیہ سے کوہ نور ہیرا واپس بھی لے سکے گی یا نہیں، مشکل لگتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں