ایران جوہری معاہدے میں جلد واپسی کا امکان نہیں: امریکہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کے مستقبل قریب میں کسی ایسے صورتحال میں منتقل ہونے کا امکان نہیں جس میں ایرانی جوہری پروگرام پر معاہدے کی طرف واپسی ہو جائے ۔

اے ایف پی کے مطابق جان کربی نے جمعرات کے روز صحافیوں کو بتایا کہ امریکی صدر بائیڈن اب بھی سمجھتے ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے سفارتی طریقہ کار ہی بہترین ہے۔ لیکن ہم جامع مشترکہ پلان آف ایکشن کو یقینی بنانے کے قریب نہیں ہیں۔ ایرانی غیر معقول مطالبات کے ساتھ مذاکرات کی طرف واپس آئے ہیں۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ان مطالبات کا خود معاہدے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

جوہری معاہدے پر ویانا میں ہونے والے مذاکرات: رائیٹرز فائل فوٹو
جوہری معاہدے پر ویانا میں ہونے والے مذاکرات: رائیٹرز فائل فوٹو

کربی نے مزید کہا کہ ہم فی الحال ایرانی حکومت کو بے گناہ مظاہرین کے ساتھ کئے جانے والے اقدامات پر جوابدہ ٹھہرانے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ وہ مہسا امینی کی موت کے خلاف شروع ہونے والے احتجاج کو جبر سے دبانے کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔

یاد رہے یہ احتجاج 3 سالوں میں مظاہروں کی سب سے بڑی لہر ہے جو ایران میں شروع ہوئی ہے۔ واضح رہے تہران نے 3 اکتوبر کو اس بات پر غور کیا تھا کہ بڑی طاقتوں کے ساتھ اپنے جوہری پروگرام معاہدے کو بحال کرنا۔ اب بھی ممکن ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں