تین ہفتوں بعد حوثیوں نے ’’مہلک انجیکشن‘‘ سے بچوں کی موت کا اعتراف کرلیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

حوثی ملیشیا نے تین ہفتے بعد سمگل شدہ اور معیاد ختم ہونے والی ادویات کے انجیکشن لگانے سے کینسر کے مریض 10 بچوں کی موت کا اعتراف کرلیا۔

تین ہفتے قبل اس وقت شدید عوامی غم و غصہ سامنے آیا تھا جب میڈیکل اور میڈیا ذرائع نے بتایا تھا کہ ایک انجکشن لگانے کے باعث 45 بچوں میں سے 18 بچے ہلاک ہوگئے ہیں۔

اب جمعرات کے روز حوثی ملیشیا کی حکومت کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ خون کے ٹیومر والے 3 سے 15 سال کی عمر کے ایک انجکشن کے باعث دس بچے فوت ہو گئے ہیں۔ یاد رہے کہ حوثی ملیشیا کی وزارت صحت کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ نہیں ہے۔

19 بچوں کو انجیکشن لگانا

حوثی وزارت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صنعاء کے کویت ہسپتال میں 19 بچوں کو سمگل شدہ ادویات کے انجیکشن لگائے گئے تھے۔ وزارت نے کہا ہے کہ اس حوالے سے تحقیقات کے نتائج سے استعمال شدہ ادویات جراثیم سے آلودہ تھیں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ حوثی ملیشیا نے اپنے زیر کنٹرول علاقوں کا سمگل شدہ اور بدعنوان ادویات کی منڈی کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ اس کی قیادت جعلی ادویات اور سمگلنگ اور تجارت کے ذریعہ دولت کما رہی۔ ان ادویات سے ہزاروں مریضوں کی زندگی خطرے میں پڑ چکی ہے۔

منشیات کی تجارت

حوثی ملیشیا نے دواسازی کی تجارت پر اپنا کنٹرول سخت کر لیا ہے۔ دواسازی کی مارکیٹ پر اثنا رسوخ بڑھا کر ادویات کی سپلائی اور تقسیم حوثی ملیشیا کی ذیلی کمپنیوں کے ذریعے کی جارہی ہے۔ ان شعبہ کی نگرانی حوثی رہنماؤں کے پاس ہے۔

یمنی تنظیم برائے انسداد انسانی سمگلنگ نے الزام عائد کیا تھا کہ صنعاء میں حوثی ملیشیا کے زیر کنٹرول وزارت صحت نے زائد المیعاد ادویات کو تاریخ کو تبدیل کرکے دوبارہ مارکیٹ میں بھیج دیا ہے۔ یہ ادویات سے کینسر کے مریض بچوں کی اموات کا سبب بن رہیں۔

بچوں کی اموات کے بعد صنعا میں حوثی حکام پر جرم کو چھپانے اور اس کے بارے میں کسی بھی معلومات کی اشاعت کو روکنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ بین الاقوامی تنظیموں نے ’’کویت ہسپتال‘‘ کے فیلڈ وزٹ اور معاملے کی تحقیقات اور ملوث افراد کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں