اوپیک پلس

او اے پیک نے اوپیک پلس کے تیل پیداوارمیں کمی کے فیصلے کی تائید کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پیٹرولیم برآمد کرنے والے عرب ممالک کی تنظیم (او اے پیک) کے سیکریٹری جنرل نے اوپیک پلس کے تیل کی یومیہ پیداوار میں کمی کے فیصلے کو صحیح وقت میں درست قراردیا ہے۔

او اے پیک کے سیکریٹری جنرل علی بن سبط نے ہفتے کے روزایک بیان میں کہا ہے کہ یہ فیصلہ عالمی معیشت کی کارکردگی کے اردگرد غیریقینی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے اوریہ اوپیک پلس کی جانب سے تیل کی مارکیٹ میں عدم توازن سے بچنے کے لیے فعال اقدامات اور بالخصوص طلب اوررسد کے پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ایک کامیاب حکمت عملی کاعکاس تھا۔

گذشتہ ہفتے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) اور روس سمیت غیراوپیک اتحادیوں پر مشتمل پیداکنندگان کے گروپ نے اپنے نئے پیداواری ہدف کا اعلان کیا تھا اور اس ضمن میں امریکا کی یومیہ پیداوار میں کمی کی تجویز کی مخالفت کو مسترد کردیا تھا۔

تاہم،اس فیصلے نے ان الزامات کوہوا دی ہے کہ سعودی عرب بین الاقوامی تنازعات میں فریق بن رہا ہے اور یہ کہ وہ امریکا مخالف مؤقف کی سیاسی طور پر حوصلہ افزائی کررہا ہے۔

سعودی عرب نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ یہ ’’حقائق پرمبنی نہیں ہیں‘‘ اور اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اوپیک پلس کا فیصلہ اتفاق رائے سے اپنایا گیا تھا۔

خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) نے بھی اس فیصلے پر سعودی عرب کی حمایت کا اظہارکیا ہے۔خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر نائف فلاح الحجرف نے جمعرات کوایک بیان میں کہا ہے کہ اس طرح کے بیانات (مملکت پرتنقید) کبھی حقائق کو مسخ نہیں کرسکتے اورنہ ہی سعودی عرب کو اپنے متوازن نقطہ نظر کو برقرار رکھنے سے روکیں گے۔

واضح رہے کہ او اےپیک میں الجزائر، بحرین، مصر، عراق، کویت، لیبیا، قطر، سعودی عرب، شام، تُونس اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں