ایران مظاہرے

ایرانیوں کو بیرونی دنیا کے ساتھ رابطے میں مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں: امریکہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران میں مسلسل چوتھے ہفتے مظاہروں کا سلسلہ جاری رہنے کے بعد امریکی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن نے جمعہ کو اعلان کیا کہ واشنگٹن ایسے حل پر کام کر رہا ہے جس سے احتجاج کرنے والے ایرانیوں کو بیرونی دنیا سے رابطہ کرنے میں مدد ملے۔

انہوں نے واشنگٹن میں ایرانی کارکنوں کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا کہ امریکی انتظامیہ ایک ایسے لائسنس پر کام کر رہی ہے جو ٹیکنالوجی کی فراہمی کی اجازت دیتا ہے جس سے ایرانیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ اور بیرونی دنیا کے ساتھ بات چیت کرنے کا موقع ملے گا اورایران میں انٹرنیٹ کی مسلسل بندش کا متبادلہ راستہ ملے گا۔

بلنکن نے ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کو دبانے کے ذمہ داروں کے خلاف واشنگٹن کی طرف سے عائد پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ایرانی حکومت کے خلاف عوامی مظاہروں کے لیے اپنے ملک کی حمایت کی تجدید کی۔

واشنگٹن کے سیکرٹری آف سٹیٹ نے یاد دلایا کہ امریکہ نے ایران میں نام نہاد "مذہبی پولیس" پر پابندیاں عائد کیں۔ یہ پولیس گذشتہ 16 ستمبر کو نوجوان خاتون مہسا امینی کے قتل کی ذمہ دار قرار دی جاتی ہے۔

انٹرنیٹ کی بندش

قابل ذکر ہے کہ کرد نوجوان خاتون مہسا امینی کی نام نہاد مذہبی پولیس کے ارکان کے ہاتھوں گرفتاری کے 3 دن بعد 16 ستمبر کو بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔ ایران نے احتجاج کو روکنے اور مظاہرین کو ایک دوسرے سے رابطوں سے محروم کرنے کے لیے انٹرنیٹ سروس بند کردی تھی۔ بدھ کے روز ایران کے بیشتر شہروں میں انٹرنیٹ کی سروس معطل رہی۔

امینی کی موت کے بعد ایران میں حکومت کے خلاف عوامی غم وغصے میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس واقعے کے چار ہفتے گذرنے کے باوجود احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں