ایران مظاہرے

ایرانی فورسز کامظاہروں میں شریک خواتین پربہیمانہ تشدد،سوشل میڈیا پر ہنگامہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار احتجاجی مظاہروں میں شریک خواتین کو کھلے عام نازیبا انداز میں تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ایسے واقعات کی تصدیق شدہ ویڈیوزمنظرعام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پرایک ہنگامہ بپاہے اور لوگ ایسے واقعات میں ملوث سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف تادیبی کاررروائی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

بی بی سی نے ایسے واقعات کی تصدیق شدہ دو ویڈیوز رپورٹ کی ہیں۔ ان میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حفاظتی لباس پہنے ہوئے افسروں کا ایک گروپ مظاہرین سے پُرتشدد انداز میں بدتمیزی اور نازیبا سلوک کررہا ہے۔

ایک واقعہ میں مظاہرے میں شریک ایک خاتون جب افسروں کے ایک گروپ کی طرف بڑھتی ہے، تو اس کو ایک افسر نامناسب طریقے سے چھو رہا ہے، جبکہ دوسری خاتون کو بالوں سے پکڑ کرپرتشدد طریقے سے پیچھے کی طرف کھینچا جاتا ہے۔اس خاتون کو چیختے چلاتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ جب سکیورٹی اہلکاروں نے اسے کھینچنے کی کوشش کی تو اسکی ساتھی خواتین اس کی مدد کو آئیں اور اس کو پیچھے لے گئیں۔

بی بی سی کے اسی کلپ میں شیئر کی گئی ایک اور ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فسادات مخالف لباس میں ملبوس افسروں کے ایک گروپ نے ایک شخص کو زبردستی دو پہیّوں والی گاڑی کی طرف دھکیلا اور پھر اسے پیچھے سے نامناسب طریقے سے پکڑ لیا۔

متاثرہ شخص افسروں کی گرفت سے پھسل جاتا ہے اور کچھ ہی دیر بعد زمین پرگرجاتا ہے۔ یہ واقعہ مبینہ طور پر تہران کے ارجنٹینا اسکوائر میں پیش آیا، جہاں بہت سے لوگوں نے مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ واقعات مظاہرین کی جانب سے شیئر کی جانے والی متعدد ویڈیوز میں مزید اضافہ ہیں۔ایرانی شہروں میں انٹرنیٹ بلاک ہونے کے باوجود سکیورٹی فورسز کے مظاہرین کے ساتھ اس طرح کے ناروا واقعات رپورٹ ہورہے ہیں۔سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان پرتشدد جھڑپوں کے علاوہ توتکار کی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ارنا کے مطابق تہران پولیس کے دفتر برائے تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق پولیس کے بیان میں اس واقعہ کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ 'دشمنوں نے نفسیاتی جنگ کا استعمال کرتے ہوئے عوام میں بے چینی پیدا کرنے اور تشدد بھڑکانے کی کوشش کی ہے۔

عاطفہ نامی ایک سوشل میڈیا صارف نے سوال کیا کہ کیا آپ نے اس ملک کی لڑکیوں کو اپنی جیلوں سے کھلی گلیوں میں اس مقصد کے ساتھ باہر نکالا ہے کہ آپ اپنی فحاشی، لعن طعن اور غلاظت کا سرعام پرچارکریں۔

ایران میں یہ مظاہرے 16 ستمبر کو 22 سالہ مہسا امینی کی پولیس کے زیرِحراست موت کے بعد شروع ہوئے تھے اور اب ایرانی نظام مخالف تحریک میں تبدیل ہوچکے ہیں۔انسانی حقوق کے علمبرداروں کے ایک گروپ کی ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ نیوزایجنسی (ایچ آر اے این اے) کے مطابق ایران کی سکیورٹی فورسز نے حکومت مخالف مظاہروں میں 29 نابالغوں سمیت 224 افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ مظاہرین کے 'وحشیانہ کریک ڈاؤن' کے باوجود احتجاجی تحریک جاری ہے اور مظاہروں میں شریک بچوں پرحملے کیے گئے ہیں جس کے نتیجے میں کم سے کم 23 نابالغ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں