ایران میں مظاہروں پر حیران ہو گیا ہوں: جوبائیڈن

ایران اپنے شہریوں پر تشدد بند کرے: ایران مخالف مظاہرین کے جتھے سے کیلیفورنیا میں خطاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر جو بائیڈن نے ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں پر غیر معمولی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے ایران میں ایسا برسوں بعد ہوا ہے۔ یہ اس قدر بڑا احتجاج ایک بائیس سالہ ایرانی خاتون کی موت کی وجہ سے آج ایران میں دیکھا جا رہا ہے۔

صدر جو بائیڈن نے ان خیالات کا اظہارکیلی فورنیا میں ایران کے خلاف مظاہرہ کرنے والے ایک جتھے سے خطاب کرتے ہوئے کیا جو 'ایران آزاد کرو ' کے کتبے اٹھائے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا 'میں چاہتا ہوں کہ آپ یہ جان لیں کہ ہم شہریوں کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم ایران کی بہادر خواتین کے ساتھ کھڑے ہیں۔'

امریکی صدر نے کہا 'ایران میں اس اتنی بڑی بیداری پر حیران ہو گیا ہوں۔' یہ ایسی بیداری ہے جس کا میں نہیں سوچتا تھا۔ اس نے ایران کو ایسا بیدار کر کر دیا ہے اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اب زیادہ دیر تک خاموشی رہ سکے گی۔'

واضح رہے ایران میں یہ مظاہرے ٹھیک ایک ماہ پہلے سے جاری ہیں۔ ایرانی اخلاقی پولیس نے ایک کرد ایرانی لڑکی بائیس سالہ مہسا امینی کو سرپر سکارف نہ لینے کے باعث گرفتار کر لیا تھا۔ جو بعد ازاں پولیس حراست کے دوران ہی ہلاک ہو گئی۔ تب سے اب تک احتجاجی مظاہروں کا یہ سلسلہ جاری ہے۔

ان احتجاجی مظاہروں میں شریک لوگوں میں سے اب تک بیسیوں ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس صورت حال کو 'بے لگام وحشیانہ کریک ڈاون' کا نام دیا ہے۔ ایرانی مظاہروں میں بیسیوں مارے جانے والے مظاہرین میں 23 سے زائد بچوں کے بھی مرنے کی اطلاعات ہیں۔

صدر جو بائیڈن نے ایرانی مظاہروں پر مختصر خطاب یہ بھی کہا 'خواتین کو دنیا بھر میں مختلف طریقوں سے مظالم کا شکار بنایا جار یا ہے، لیکن میں کہوں گا خواتین کو خدا کے نام پر وہی پہننے دیں جو وہ پہننا چاہتی ہیں۔' ایران کو اپنے شہریوں کے خلاف تشدد بند کرنا ہو گا کہ اس کے شہری اپنے حقوق بروئے کار لانا چاہتے ہیں۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں