اوپیک پلس

اوپیک پلس کاپیداوارمیں کمی کافیصلہ متفقہ اور ’وجوہ‘اقتصادی تھیں:سعودی وزیردفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے وزیردفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے کہا ہے کہ اوپیک پلس نے تیل کی پیداوار میں کمی کا فیصلہ متفقہ طور پر اور’خالصتاًمعاشی وجوہ‘کی بنا پرکیا تھا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پرسلسلہ وار ٹویٹس میں سعودی وزیردفاع نے یوکرین کے ساتھ جنگ میں روس کے ساتھ کھڑے ہونے کے الزامات پر حیرت کا اظہارکیا ہے اور کہا کہ ایران بھی اوپیک کا رکن ملک ہے، کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ سعودی عرب بھی ایران کے ساتھ کھڑا ہے؟

سعودی وزیردفاع کا کہناتھا کہ ’’یہ جھوٹے الزامات یوکرین کی حکومت کی جانب سے نہیں آئے ہیں‘‘۔

واضح رہے کہ خلیج تعاون کونسل اور پیٹرولیم برآمد کرنے والے عرب ممالک کی تنظیم (او اے پیک) نے اوپیک پلس کے تیل کی یومیہ پیداوار میں کمی کے فیصلے کو صحیح وقت میں درست قراردیا ہے اور اس کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

او اے پیک کے سیکریٹری جنرل علی بن سبط نے ہفتے کے روزایک بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ عالمی معیشت کی کارکردگی کے اردگرد غیریقینی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے اوریہ اوپیک پلس کی جانب سے تیل کی مارکیٹ میں عدم توازن سے بچنے کے لیے فعال اقدامات اور بالخصوص طلب اوررسد کے پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ایک کامیاب حکمت عملی کاعکاس تھا۔

گذشتہ ہفتے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) اور روس سمیت غیراوپیک اتحادیوں پر مشتمل پیداکنندگان کے گروپ نے اپنے نئے پیداواری ہدف کا اعلان کیا تھا اور اس ضمن میں امریکا کی یومیہ پیداوار میں کمی کی تجویز کی مخالفت کو مسترد کردیا تھا۔

تاہم،اس فیصلے نے ان الزامات کوہوا دی ہے کہ سعودی عرب بین الاقوامی تنازعات میں فریق بن رہا ہے اور یہ کہ وہ امریکا مخالف مؤقف کی سیاسی طور پر حوصلہ افزائی کررہا ہے جبکہ سعودی عرب نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ یہ ’’حقائق پرمبنی نہیں ہیں‘‘ اورواضح کیا کہ اوپیک پلس کا فیصلہ اتفاق رائے سے کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں