ایران مظاہرے

یورپی یونین نے ایران کی ’اخلاقی‘ پولیس اور وزیراطلاعات پر پابندیاں عایدکردیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یورپی یونین نے ایران کی ’اخلاقی‘ پولیس (گشت ارشاد)، وزیراطلاعات اور پاسداران انقلاب کے سائبر ڈویژن پرپابندیاں عاید کردی ہیں۔اس نے یہ فیصلہ گذشتہ ماہ تہران میں مہسا امینی کی اخلاقی پولیس کے زیرحراست موت اور اس کے ردعمل میں ہونے والے مظاہروں کو دبانے کے لیے کریک ڈاؤن کے جواب میں کیا ہے۔

یورپی بلاک کے سرکاری انتظامی گزٹ میں شائع شدہ فہرست میں نام نہاد اخلاقی پولیس، پاسداران انقلاب کی نیم فوجی فورس بسیج ملیشیا اور قومی پولیس کی ایک وردی پوش شاخ کے سربراہان کو بھی بلیک لسٹ کیا گیا ہے۔

کرد نژاد ایرانی خاتون مہساامینی کو 13ستمبر کو تہران میں اخلاقی پولیس نے ’نامناسب حجاب‘ پہننے کے الزام میں گرفتارکیا تھا۔ وہ اس کے فوری بعد کوما میں چلی گئی تھیں اور 16 ستمبر کو انتقال کر گئی تھیں۔ان کی پُراسرار موت کے بعد سوشل میڈیا، ایران اور دنیا بھر کی سڑکوں پر مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے امینی کی موت کے بعد مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں کردار ادا کرنے پر11 ایرانیوں اور گشت ارشاد سمیت چار اداروں کے سربراہوں پر سفری پابندی عاید کی ہے اوران کے اثاثے منجمد کرنے کی منظوری دی ہے۔

لکسمبرگ میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے ایک اجلاس کے بعد تنظیم کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل نے ٹویٹ کیا کہ "#MahsaAmini کی ہلاکت اور پرامن مظاہرین پر جبروتشدد کے ذمہ دار #Iran میں موجود لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے کا متفقہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

دوسری طرف تہران کا کہنا ہے کہ وہ اشتعال انگیزی کرنے والے غیرملکیوں کے خلاف کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے اوروہ امن وامان کا قیام چاہتا ہے۔

قبل ازیں اس ماہ کے اوائل میں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل نے یہ عندیہ دیا تھا کہ ان کی تنظیم ایران کے خلاف مہسا امینی کے ’’قتل‘‘اور ملک بھر میں مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے ردعمل میں پابندیاں عایدکرنے پرغور کر رہی ہے۔

بوریل نے یورپی پارلیمان کوبتایا تھا کہ’’ہم مہسا امینی کی ہلاکت اور ایرانی سکیورٹی فورسز کے مظاہروں سے نمٹنے کے طریق کارکے ردعمل میں پابندیوں کے اقدامات سمیت اپنے تمام اختیارات پرغور جاری رکھیں گے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں