روس اور یوکرین

امریکی رپورٹ: پاسداران انقلاب یوکرین پہنچ گئے ہیں

یوکرین پر روسی حملے میں ایران کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید ثبوت تلاش کر رہے:یورپی یونین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی فاکس نیوز کے مطابق متعدد مغربی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے ارکان یوکرین میں روس کے زیر کنٹرول علاقوں میں نگرانی کر رہے تھے۔ان ذرائع کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کے ارکان نے روسی افواج کو تربیت دینے کے لیے یوکرین میں روس کے زیر کنٹرول علاقوں کا سفر کیا۔

ایرانی پاسداران انقلاب کو امریکہ نے ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزد کر رکھا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ فار دی سٹڈی آف وار کی گزشتہ ہفتے شائع ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ روسی افواج "شاید" ایرانی پاسداران انقلاب سے وابستہ اہلکاروں کو روسیوں کو شاہد-136 ڈرون استعمال کرنے کی تربیت دینے کے لیے ان علاقوں میں لائی تھیں ۔ اس سے ماسکو اور تہران میں گرمجوشی کی ایک اور مثال سامنے آگئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 12 اکتوبر کو، یوکرین کے مزاحمتی مرکز نے اعلان کیا کہ ایران سے تربیت دینے والوں کی غیر متعین تعداد کریمیا میں زلزنی اور ہلاڈیوٹسی کی بندرگاہوں پر پہنچ گئی ہے۔

برطانوی ڈیلی مرر نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کریمیا پہنچنے والے پاسداران انقلاب کے افراد 50 تک ہوسکتے ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع نے فاکس نیوز کو کہا کہ ان رپورٹس کے جواب میں اس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے۔

یورپی یونین ٹھوس ثبوتوں کی تلاش میں

دوسری طرف یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے سربراہ، جوزف بوریل نے پیر کو کہا ہے کہ یورپی یونین یوکرین کے خلاف روس کی جنگ میں کسی بھی ایرانی ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت کی تلاش میں ہے۔

لکسمبرگ میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں پہنچنے پر صحافیوں کو بتایا کہ "ہم یوکرین کی جنگ میں ایران کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید ثبوت تلاش کریں گے۔یوکرین کے وزیر خارجہ بھی اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔

مزاحمتی مرکز نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایرانی ٹرینرز سویلین اہداف پر ڈرونز کی لانچنگ کو براہ راست کنٹرول کرتے ہیں۔خاص طور پر میکولائیو اور اوڈیسا کے علاقوں میں بھی ایرانی ٹرینرز لانچنگ کو کنٹرول کرتے ہیں۔ایک اور رپورٹ میں بتایا گیاکہ ایرانی ڈرون کا بنیادی آپریٹر صرف پاسداران انقلاب کے افراد ہیں لہذا امکان ہے کہ ڈرون کی تربیت دینے والے پاسداران انقلاب گروپ کے رکن ہوں یا کم از کم اس گروپ سے وابستہ ہوں۔ خیال رہے کریمیا کے پل پر ہونے والے دھماکے کے بعد روس نے اپنے بم حملے تیز کر دیےہیں۔ روس نے جواب میں یوکرین پر 80 کروڑ میزائل داغے ہیں۔

تہران نے بارہا یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ یوکرین میں روسی صدر پوتین کی جنگ میں ملوث نہیں ہے، لیکن ناقدین نے اس صورت حال پر سوال اٹھایا ہے کیونکہ شاہد 136 طیارہ جسے "کامیکازے ڈرون" بھی کہا جاتا ہے اگلے مورچوں پر دکھائی دینے لگے ہیں۔ ماسکو کو موسم گرما کے دوران ڈرونز موصول ہوئے ۔ شاہد 136 ڈرونز کی تعیناتی کی کوشش کے دوران روسی افواج کو تکنیکی مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم روسی فوج نے ستمبر کے وسط میں ڈرونز کا استعمال شروع کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں