مصری عدالت نے الاخوان المسلمون کوپانچ سال کیلئےدہشت گردگروپوں کی فہرست میں شامل کردیا

ثابت ہوا گروپ اور اس سے متعلق افراد نے دہشت گردانہ کارروائیوں کی مالی معاونت کا جرم کیا: پبلک پراسیکیوشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

قاہرہ کی فوجداری عدالت نے ایک نئے عدالتی فیصلے میں الاخوان المسلمون کو 5 سال کے لیے دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر دیا۔

سرکاری گزٹ نے اس فیصلے کا متن شائع کیا جس میں اس گروپ کو دہشت گرد گروپ کا درجہ دیا گیا اور اس کے افراد دہشت گردوں کی فہرستوں میں شامل کیا گیا۔ یہ فیصلہ اپریل 2018 اور اپریل 2022 میں فوجداری عدالت کے جاری دو دیگر فیصلوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ گزشتہ دو فیصلوں میں اس گروپ کو دہشت گرد گروپ قرار دیا گیا تھا اور الاخوان المسلمون کے 1,527 افراد اور رہنماؤں کو دہشتگردوں کی فہرستوں میں شامل کیا گیا تھا۔

پبلک پراسیکیوشن نے گروپ کے رہنماؤں اور اس کے وفاداروں کی ایک بڑی تعداد کو دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کرنے اور ان کے فنڈز ضبط کرنے کی درخواست جمع کرائی ۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ مسلح تحریک اور دہشت گردی کی کارروائیوں کا انحصار ان اراکین اور ان کے حامیوں کی طرف سے فراہم کردہ فنڈز پر تھا۔ گروپ کے یہ حامی مختلف معاشی اداروں میں موجود ہیں اور گروپ کو مادی اور اخلاقی مدد مہیا کر رہے ہیں۔

دہشت گردانہ کارروائیوں کی مالی معاونت

پبلک پراسیکیوشن نے کہا کہ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ گروپ اور فہرستوں میں موجود ناموں والے افراد ہتھیاروں کی خریداری، گروپ کے ارکان کو دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے تیار کرنے، انہیں لاجسٹک مدد فراہم کرنے، افواہوں کو فروغ دینے کے جرائم کے مرتکب ہیں۔ ان کے یہ اقدامات قومی سلامتی کو متاثر کرتے اور ریاست کے اندرونی نظام کو نقصان پہچاتے ہیں۔ گروپ سے منسلک ایکسچیج کمپنیوں کے ذریعہ رقوم کو سونے چاندی کی شکل دیکر بیرون ملک سمگل بھی کیا جاتا ہے۔

یاد رہے گزشتہ اپریل قاہرہ کی فوجداری عدالت نے ایک حکم جاری کیا تھا جس میں الاخوان کے 20 دیگر رہنماؤں اور اراکین کے نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیے تھے۔ اسی طرح اس گروپ کے "ایسپائر پروڈکشن ہاؤس" اور "ڈیلٹا ڈویلپمنٹ فار رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ" کمپنیوں کے نام بھی پانچ سال کے لیے دہشت گرد اداروں کی فہرست میں شامل کردئیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں