روس اور یوکرین

یوکرین کا روس کوہتھیاردینے پرایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یوکرین کے وزیرخارجہ نے صدر ولودی میر زیلنسکی کو ایران سے دوطرفہ سفارتی تعلقات توڑنے سے متعلق ایک تجویز پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔اس میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ تہران کے ساتھ روس سے فوجی تعاون پر باضابطہ طور پرسفارتی تعلقات منقطع کردیں۔

روس نے سوموار کویوکرین میں مختلف اہداف پردرجنوں مہلک ڈرون داغے تھے۔ ان سے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تھا اوردارالحکومت کیف میں ایک ڈرون حملے میں چارافرادہلاک ہوگئے تھے۔

یوکرین کا کہنا ہے کہ یہ حملے ایرانی ساختہ شاہد 136 ڈرونز سے کیے گئے تھے۔تاہم تہران نے روس کو یہ ڈرونزمہیا کرنے سے انکار کیا ہے۔

یوکرینی وزیرخارجہ دیمیترو کلیبا کا کہنا ہےکہ ہمیں یقین ہے کہ یہ ایران ساختہ ڈرون ہیں اور وہ اس ضمن میں شکوک کاشکاریرپی طاقتوں کو ثبوتوں کا انبار فراہم کرنے کوتیارہیں۔

کلیبا نےایک نیوزکانفرنس میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ یوکرین کےساتھ دوطرفہ تعلقات کی تباہی کی مکمل ذمہ داری تہران پرعاید ہوتی ہے۔میں یوکرین کے صدر کو ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کی تجویز پیش کررہا ہوں۔

کلیبا نے کہا کہ کیف اسرائیل کوایک سرکاری نوٹ بھیجے گا جس میں فوری طور پر فضائی دفاعی نظام مہیا کرنے اور اس شعبے میں تعاون کا مطالبہ کیا جائے گا۔

کلیبا کے اس بیان پر اسرائیل کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

اس سے قبل منگل کے روز ہی اسرائیل کی فیصلہ ساز سکیورٹی کابینہ کے ایک رکن، وزیر انصاف جدعون ساعر نے قومی نشریاتی ادارے آرمی ریڈیو کو بتایا: ’’یوکرین کے لیے ہماری حمایت میں ہتھیاروں کا نظام اور اسلحہ شامل نہیں اوراس مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے‘‘۔

اگرچہ اسرائیل نے یوکرین پرروسی حملے کی مذمت کی ہے اور اس کو انسانی امداد مہیاکی ہے ، لیکن اس نے شام میں ماسکو کے ساتھ تعاون جاری رکھنے پر تشویش کا حوالہ دیتے ہوئے کیف کو فوجی امداد مہیا کرنے سے بھی گریز کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں