انڈونیشیا:100بچّوں کی ہلاکت کے بعدہرقسم کے شربت اورمائع ادویہ کی فروخت پرپابندی عاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

انڈونیشیا کی حکومت نے ہرقسم کے شربت اور مائع ادویہ کے نسخے لکھنے اوران کی دکانوں پر فروخت پر پابندی عاید کرنے کا اعلان کیا ہے۔اس نے یہ فیصلہ رواں سال شربت کے استعمال سے گردے ناکارہ ہونےکے نتیجے میں قریباً 100 بچّوں کی ہلاکت کے بعد کیا ہے۔

یہ پابندی ایک ایسے وقت میں عاید کی گئی ہے جب انڈونیشیا کے صحت حکام جنوری کے بعد سے گردے ناکارہ ہونے (اے کے آئی) سے بچوں کی اموات کی تعداد میں غیرمعمولی اضافے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

اس سال کے اوائل میں گیمبیا میں قریباً 70 بچّوں کی اسی عارضے سے موت واقع ہوئی تھی اور ان کی اموات کا بھارت ساختہ کھانسی کے چارشربتوں سے تعلق جوڑا گیا ہے۔کھانسی کے ان خطرناک شربتوں کا اسکینڈل بھارت میں اسی سال سامنے آیا ہے۔

انڈونیشیا کی خوراک اور ادویہ ایجنسی کا کہنا ہے کہ گیمبیا میں درآمد کیے جانے والے شربت جنوب مشرقی ایشیائی ملک میں دستیاب نہیں ہیں۔وزارت صحت کے ترجمان سیہریل منصور نے ایک پریس بریفنگ میں بتایا کہ آج تک ہمیں 20 صوبوں سے 206 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ان میں سے 99 کی اموات ہوئی ہیں۔

انھوں نے کہا:’’احتیاط کے طور پر وزارت نے مراکزصحت میں کام کرنے والے سبھی طبی کارکنان سے کہا ہے کہ وہ عارضی طور پر مائع ادویہ یا شربت کے نسخے نہ لکھیں۔ ہم نے دواخانوں سے بھی کہا ہے کہ وہ تحقیقات مکمل ہونے تک غیرنسخے والی مائع ادویہ یا شربت کی فروخت عارضی طور پر روک دیں‘‘۔

وزارت کے ترجمان نے کہا کہ گردے ناکارہ ہونے کے کیسوں میں اضافہ اس سال جنوری میں شروع ہوا تھا اور اگست کے آخر سے اس میں مزید تیزی آئی ہے۔ وزارتِ صحت اورماہرین امراضِ اطفال کی تنظیم کو گردے ناکارہ ہونے کے بڑھتے ہوئے کیسوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور اس سے متاثرین میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

وزارت نے بتایا ہے کہ انڈونیشیا میں رپورٹ ہونے والے بیشترکیس 18 سال سے کم عمربچوں کے ہیں اور ان میں بھی زیادہ تر پانچ سال سے کم عمر کے بچّے شامل ہیں۔متاثرہ بچوں کی تعداد میں حالیہ اضافے سے قبل وزارت عام طور پر ایک ماہ میں گردے ناکارہ ہونے کے ایک یا دوکیسوں کی اطلاع دیتی رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں