خلیج میں سوشل میڈیاکی ’تواناآوازیں‘ ٹک ٹاک کی طرف راغب،انسٹاگرام کی مقبولیت میں کمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

خلیج عرب میں سوشل میڈیا کی توانا آوازیں اور بارسوخ افراد ٹک ٹاک کی جانب راغب ہورہے ہیں۔بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ٹک ٹاک کی مقبولیت بڑھنے سے سوشل میڈیا کا ایک اور مقبول پلیٹ فارم انسٹاگرام ختم ہوکررہ جائے گا۔

خطۂ خلیج میں سوشل میڈیا میں اثرورسوخ کے حامل اور رائے عامہ پر اثر انداز ہونے والے حضرات نے چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پرآنا شروع کردیا ہے۔

دبئی میں بہت سے لوگوں کے لیے ، سوشل میڈیا پرمؤثرہونے کے ناتے ایک کل وقتی کام ہے۔خلیج میں بہت سے انفلوئنسرز کمپنیوں، برانڈز، مصنوعات اور خدمات کو فروغ دے کر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے روپیہ پیسہ کمانے کے خواہاں ہیں۔

تریفد میڈیا کے انفلوئنسرمینجر توری یوکو نے العربیہ کوبتایا کہ فیس بک "پلیٹ فارم" ہوا کرتا تھا لیکن اس کے پیروکار کم ہونا شروع ہو گئے اور اب وہ پرانی نسل کے لیے ہے‘‘۔

جب ٹک ٹاک کا آغاز ہوا تو لوگوں نے سوچا کہ یہ بچوں کے لیے ہے، لیکن یہ بدل رہا ہے۔ یوکو نے کہا کہ ٹک ٹاک کی مانگ زیادہ ہے۔

ویڈیو پوسٹنگ پلیٹ فارم ٹک ٹاک کو سب سے پہلے چین میں قریبا چھے سال قبل متعارف کرایا گیا تھا، لیکن 2020 کے آس پاس مقبول ہوا۔بالخصوص نوجوانوں اور سوشل میڈیا صارفین کی ایک نئی نسل کے لیے یہ ایک مقبول پلیٹ فارم بن گیا۔

تریفد میڈیا کے بانی مہدی شافعی نے العربیہ کو بتایا کہ "حال ہی میں ٹک ٹاک پرمارکیٹنگ میں اضافہ ہوا ہے۔انسٹاگرام پر مشہور انفلوئنسرز اب ٹک ٹاک کا رُخ کر رہے ہیں کیونکہ یہی وہ جگہ ہے جہاں شہرت ہے ، اور یہی وہ جگہ ہے جہاں پیسہ ہے۔

یوکو نے کہا کہ انفلوئنسرز کے ٹک ٹاک پر اوسطا 200،000 سے 500،000 تک پیروکارہوتے ہیں لیکن انسٹاگرام پر اس سے کہیں کم ہوتے ہیں۔

شافعی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئےکہا کہ لوگ ٹک ٹاک پر صرف ایک ویڈیو پوسٹ کرکے "راتوں رات قریباً پچاس لاکھ پیروکار حاصل کرسکتے ہیں۔

تریفد میڈیا میں کام کرنے والی ریمی سالوم ایسے لوگوں کی صرف ایک مثال ہیں۔2018ءمیں سوشل میڈیا پر مؤثر آواز بننے والے سلوم کے انسٹاگرام پر پانچ لاکھ 26 ہزار اور ٹک ٹاک پر 15 لاکھ فالوورز ہیں۔ انسٹاگرام پر، وہ ایک میکرو انفلوئنسر کے طور پر جانی جاتی ہے ، اور ٹک ٹاک پر میگا انفلوئنسر کے طور پرمعروف ہیں۔

انسٹاگرام نے ٹک ٹاک کے ساتھ مقابلہ برقرار رکھنے کی کوشش میں اپنا مختصر وڈیو کا پلیٹ فارم ’’ریلز‘‘ متعارف کرایا ہے۔یہ ٹک ٹاک ایسی ویڈیوز کی طرح انسٹاگرام کا اپنا ورژن ہے اور یہ اپنی آن لائن پیروی کو بڑھانے کے خواہاں افراد میں تیزی سے مقبول ہورہا ہے۔

دبئی میں مقیم انفلوئنسر والبونا شہاج نے کہا کہ ان کے انسٹاگرام اور ٹک ٹاک دونوں اکاؤنٹس پر ویڈیوز بنانے سے انھیں چھ ماہ سے بھی کم عرصے میں لاکھوں پیروکار بنانے میں مدد ملی ہے۔اس وقت انسٹاگرام پر ان کے ڈیڑھ لاکھ اور ٹک ٹاک پر 2 لاکھ پیروکار ہیں۔

ریلز نے دو سال پہلے اپنی سروس کا آغازکیا تھا۔شہاج کے بہ قول اس پلیٹ فارم نے انٹرنیٹ پر کاروباری اداروں کے لیے پورے کھیل کو بالکل نئے انداز میں تبدیل کر دیاہے۔

لیکن ہر کوئی شافعی کے خدشات سے اتفاق نہیں کرتا ہے کہ انفلوئنسرز ٹک ٹاک کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے بارے میں 100 فی صد فکرمند ہیں، بہت سے لوگ ایک دوسرے سے مسابقت کے لیے دونوں پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہیں۔

سلوم انسٹاگرام اور ٹک ٹاک دونوں کا استعمال کرتی ہیں اورایک ماں کی حیثیت سے اپنی روزمرہ کی زندگی کی ویڈیوز شیئرکرتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ٹک ٹاک نے ان کے پیروکاروں کی تعداد کو بڑھانے میں مدد کی اور اس کے نتیجے میں ان کے انسٹاگرام پرپیروکاروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’’ٹک ٹاک پران کے پیروکاروں کی تعداد میں اضافے کے باوجود، میرانہیں خیال کہ اس کا مطلب انسٹاگرام کا خاتمہ ہے کیونکہ انسٹاگرام سوشل میڈیا کے تازہ رجحانات کے ساتھ چلنے کی کوشش کر رہا ہے اور یہ نہیں لگتا کہ یہ ختم ہو جائے گا‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں