سعودی معیشت

سعودی عرب کا صنعتی شعبے کا ’جی ڈی پی‘ میں حصہ 900 ارب تک لانے کا عزم

سعودی وزیر صنعت ومعدنی وسائل کی العربیہ سے خصوصی گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے وزیر صنعت و معدنی وسائل بندر الخریف نے کہا ہے کہ قومی حکمت عملی برائے صنعت جسے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے شروع کیا ہے مملکت کی اقتصادی بنیاد کو متنوع بنانے کے لیے ایک ضروری ذریعہ ہے۔

الخریف نے "العربیہ" چینل کے ساتھ ایک انٹرویو میں مزید کہا کہ سعودی عرب کا مقصد ’جی ڈی پی‘ میں صنعتی شعبے کی شراکت کو 900 ارب ریال تک بڑھانا ہے، انہوں نے کہا کہ نئی حکمت عملی کا مقصد خوراک، دواسازی اور فوجی تحفظ حاصل کرنا ہے۔

الخریف نے اشارہ کیا کہ وژن 2030 کے آغاز کے بعد سے مملکت میں فیکٹریوں کی تعداد میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

الخریف نے کہا کہ یہ حکمت عملی صرف صنعتی شعبوں پر توجہ مرکوز کرنے تک محدود نہیں تھی جس میں مملکت کامیاب ہو سکتی ہے بلکہ اس سے آگے بڑھ کر صنعتی شعبوں کے اندر صنعتی سامان کے ایک ایسے گروپ کی نشاندہی کی گئی ہے جس پر مملکت کے وسائل کو توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

قومی صنعتی ترقی اور لاجسٹکس پروگرام (NDLP) میں موجودہ اقدامات کے دائرہ کار کو مضبوط اور وسیع کرنے کے علاوہ سرمایہ کاروں کی مدد کے لیے نئے اقدامات تیار کیے گئے ہیں۔ سرمایہ کار چاہے مقامی ہوں یا بین الاقوامی اور چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ خوراک دواسازی، طبی آلات اور سمندری صنعتیں کے لیے 12 صنعتی سرگرمیاں شروع کی گئی ہیں۔

اس مقصد کے حصول کے لیے صنعت اور معدنی وسائل کے وزیر نے کہا کہ صنعت کے لیے قومی حکمت عملی تین اہم اہداف پر مبنی ہے: ایک لچکدار قومی صنعتی معیشت کی تعمیر جو سرمایہ کاری کو راغب کرے، عالمی طلب کو پورا کرنے کے لیے ایک مربوط علاقائی صنعتی مرکز کی تشکیل اور حصول اعلیٰ معیار کی مصنوعات کی تیاری اور برآمد میں قائدانہ کردار ادا کرنا اور ٹیکنالوجی عالمی سپلائی چینز کو محفوظ بنانے میں معاونت کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں