سوڈان اوپیک پلس کے فیصلے میں سعودی عرب کا حامی

اوپیک کا فیصلہ خالصتاً اقتصادی نوعیت کا ہے سیاسی نہیں: سوڈانی وزارت خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تیل پیدا کرنے والے اور اوپیک کے رکن ملک سوڈان نے اوپیک پلس کی طرف سے تیل کی پیداوار میں بیس کٹوتی کے فیصلے کو اوپیک کا متفقہ فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خالصتا اقتصادی بنیادوں پر کیا گیا ہے۔

سوڈانی وزارت کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے ' یہ تنہا سعودی عرب کا فیصلہ نہ تھا بلکہ سب نے مل کر اور متفقہ طور پر کیا تھا کہ تیل کی پیداوار میں 20 لاکھ بیرل یومیہ کی کمی کی جائے۔ '

سوڈان کے مطابق اس فیصلے کی بنیاد ' تیل کی طلب اور رسد سے متعلق حقائق تھے اور یہ عزم تھا کہ توانائی کی مارکیٹ میں استحکام رکھنا ہے ۔'

واضح رہے اوپیک پلس تیل پیدا کرنے والے اہم ممالک کا وسیع البنیاد پلیٹ فارم ہے۔ اس گروپ نے امریکہ کی ہفتوں کی لابنگ کے بعد بھی تیل کی پیداوار میں کمی کا فیصلہ کیا تھا۔

اوپیک پلس کے اس فیصلے نے امریکہ کو مشتعل کر دیا ہے۔ اسی اشتعال میں امریکہ نے سعودی عرب پر الزام لگایا ہے کہ وہ بین الاقوامی سیاست میں امریکہ مخالفوں کے ساتھ نظر آرہا ہے۔ تاہم سعودی عب نے امریکی موقف کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے یہ بات حقیقیت کے خلاف ہے۔

سوڈان نے بھی سعودی موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اوپیک پلس نے یومیہ بیس لاکھ بیرل پیداوار کم کرنے کا فیصلہ خالصتا اقتصادی وجوہات کی بنیاد پر کیا تھا ، سیاست کی بنیاد پر نہیں۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں