علامہ طبابائی یونیورسٹی کے طلبہ کا ایرانی حکام کے خلاف احتجاج اور نازیبا نعرہ بازی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی طلبہ نے سرکاری حکام کے یونیورسٹی کے دورے کے موقع پر سخت احتجاج کیا ہے۔ یہ واقعہ تقریبا ایک ماہ سے ہنگاموں کی لپیٹ میں آئے ہوئے ایران کے دارالحکومت میں منگل کے روز پیش آیا ہے۔

یہ طلبہ گذشتہ کئی ہفتوں سے 22 سالہ مہسا امینی کی ہلاکت کے خلاف غم و غصے میں ہیں۔ ایرانی پولیس کی حراست میں مھسا امینی کی ہلاکت کے بعد سے اب تک درجنوں ہلاکتیں ہو چکی ہیں اور سینکڑوں لوگ گرفتار ہو چکے ہیں۔

منگل کے روز تہران کی علامہ طباطبائی یونیورسٹی میں تقریبا 90 طلبہ نے اس وقت سخت احتجاج کرتے ہوئے سرکاری حکام کے خلاف نازیبا نعرے لگائے جب حکومتی ترجمان علی بہادوری جہرمی یونیورسٹی کے اندر ایک کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

اس سے پہلے بھی ایران کے مختلف شہروں کی یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں میں اس نوعیت کے احتجاجی واقعات ہو چکے ہیں۔ سرکاری حکام احتجاج کی اس لہر کو دشمن کی چال کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ ایرانی حکام اس سلسلے میں سب سے زیادہ امریکہ کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔

ایرانی حکومت کے ترجمان نے کہا 'بیرون ملک موجود ذرائع ابلاغ ایران پر دباو ڈالنے کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایران مخالف عناصر فارسی زبان میں نشریات کے لیے پیسہ لگا رہے ہیں۔'

ایرانی خبر رساں ادارے 'ارنا 'کے مطابق منگل کی صبح وزیر داخلہ احمد واحدی نے سعودی عرب کو بھی الزام دیا کہ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی ایران کے خلاف سرپرستی کرتا ہے۔

'اس طرح ایران کے خلاف ایک غلط ماحول بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ تاہم ایرانی وزیر داخلہ نے کسی میڈیا ہاوس کا متعین انداز میں نام نہیں لیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں