لندن چین کی جانب سے سابق پائلٹوں کی بھرتی کے خلاف حرکت میں آگیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانوی حکومت نے منگل کواعلان کیا ہے کہ وہ فوجیوں کو تربیت دینے کے لیے برطانوی فضائیہ میں سابق اور موجودہ پائلٹس کو راغب کرنے کی چینی کوششوں کے خلاف "فیصلہ کن اقدامات" کر رہی ہے۔

جب کہ برطانوی فوجی اہلکار وقتاً فوقتاً غیر ملکی فوجیوں کے ساتھ تربیتی مشنوں میں حصہ لیتے ہیں، چین کے ساتھ سابق پائلٹوں کا کوئی بھی تعاون، جسے لندن نے ملکی اور عالمی سلامتی کے لیے "نمبر ایک خطرہ" قرار دیا ہے، شدید تشویش کا باعث ہے۔

برطانوی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا کہ "ہم اہلکاروں کو تربیت دینے کے لیے موجودہ اور سابق برطانوی مسلح افواج کے پائلٹوں میں ہنر تلاش کرنے کے لیے چینی بھرتی پروگراموں کو روکنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کر رہے ہیں۔"

برطانوی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ 30 سے زیادہ سابق پائلٹوں نے 240,000 پاؤنڈ (273,000 ڈالر) سے زیادہ کی رقم کے بدلے چینی فوج کی تربیت کی آفرقبول کی تھی اور وہ فوج کو چھوڑ گئے تھے۔

برطانیہ کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ وہ "رازداری کے معاہدوں اور غیر افشاء کرنے والے معاہدوں کے استعمال کا جائزہ لے رہی ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام موجودہ اور سابق عناصر آفیشل سیکرٹس ایکٹ کے تابع ہیں جو برطانیہ کے پبلک سیکٹر کے ملازمین کو بیرونی طاقتوں کے ساتھ ریاستی راز بانٹنے سے منع کرتا ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ "نیا قومی سلامتی کا قانون جدید سکیورٹی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اضافی ٹولز بنائے گا، جس میں یہ بھی شامل ہے"۔

چین کی وزارت قومی دفاع نے تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

ہانگ کانگ کی سابق برطانوی کالونی کے خلاف چینی سکیورٹی مہم کے بعد لندن اور بیجنگ کے درمیان تعلقات خراب ہوئے اور برطانیہ میں انٹرنیٹ کی پانچویں جنریشن کے آغاز میں دیو ہیکل ٹیکنالوجی گروپ "Huawei" کی شرکت پر اختلافات کے ساتھ ساتھ اس سے متعلق خدشات بھی سامنے آئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں