ایران روس کو یوکرین کے خلاف استعمال کے لیے اسلحہ مہیا نہیں کر رہا: وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی وزیر خارجہ نے جمعرات کو یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کو بتایا ہے کہ ان کے ملک نے روس کو یوکرین کے خلاف استعمال کے لیے ہتھیار مہیا نہیں کیے ہیں جبکہ یورپی بلاک نے روس کو ڈرون دینے پر اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف نئے اقدامات سےاتفاق کیا ہے۔

حسین امیرعبداللہیان نے جوزف بوریل کو فون پر بتایا کہ یہ دعویٰ بے بنیاد ہے کہ ایران نے یوکرین کے خلاف استعمال کے لیے روس کو میزائل بھیجے ہیں۔

ایران کے اعلیٰ سفارت کار نے کہا کہ ہمارا روس کے ساتھ دفاعی تعاون ضرور ہے لیکن یوکرین کے خلاف استعمال کے لیے ہتھیار اور ڈرون بھیجنا ہماری پالیسی نہیں ہے۔

اس سے قبل جمعرات کویورپی یونین کے صدر نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ یورپی سفیروں نے یوکرین کو نشانہ بنانے کے لیے ایرانی ڈرون مہیا کرنے والے اداروں کے خلاف اقدامات سے اتفاق کیا ہے۔

یوکرین نے بدھ کے روز کہا کہ اس کی فوج نے 13 ستمبر سے اب تک 220 سے زائد ایرانی ساختہ ڈرونز کو مار گرایا ہے۔

یوکرینی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ 13 ستمبر کو یوکرین کی سرزمین پر ایرانی ساختہ شاہد۔136 کامیکاز ڈرون کو مار گرایا گیا تھا۔اس کے بعد سے فضائیہ اور یوکرین کی دفاعی افواج کے دیگراجزاء نے اس قسم کے 223 بغیرپائلٹ طیاروں کو تباہ کیا ہے۔

ایران نے روس کویوکرین کے خلاف استعمال کے لیے ہتھیارمہیا کرنے سے انکار توکیا ہے، لیکن روس کو ہتھیاروں کی فروخت سے انکار نہیں کیا ہے۔

روس نے گذشتہ پیر کو یوکرین پر درجنوں مہلک ڈرون داغے تھے اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تھااور دارالحکومت کیف میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔

یوکرین کا کہنا ہے کہ حملہ آور ڈرونز ایرانی ساختہ شاہد-136 ہیں جو اپنے ہدف کی جانب سفر کرتے ہیں جس کے بعد وہ تیزرفتاری سے گرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں تباہ ہو جاتے ہیں۔ منگل کے روز، کیف نے ان کے استعمال کی وجہ سے ایران کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں