برطانوی وزیر اعظم لز ٹرس کا مستعفی ہونے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانیہ کی وزیراعظم لز ٹرس نے منصب سنبھالنے کے محض دوسرے مہینے میں استعفے کا اعلان کردیا۔

خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ٹین ڈاوننگ اسٹریٹ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے لز ٹرس نے کہا کہ وہ وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دے رہی ہیں۔

کنزر ویٹو پارٹی کی سربراہ لز ٹرس کو محض ہفتوں کے بعد معاشی پروگرام کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور پارٹی بھی منقسم نظر آئی۔

لز ٹرس کے استعفے کے بعد ایک ہفتے کے اندر پارٹی قیادت کے انتخاب کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔

اپنے فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے لز ٹرس نے تسلیم کہ کنزر ویٹو پارٹی کی سربراہ کی حیثیت سے وہ اپنے وعدے پوری نہیں کرسکیں اور پارٹی کی حمایت کھو بیٹھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے صورت حال کا اداراک ہے، میں اس مینڈیٹ کو پورا نہیں کرسکیں جس کے لیے کنزر ویٹو پارٹی نے مجھے منتخب کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے تاج برطانیہ سے کہوں گی کہ کنزر ویٹو پارٹی کی سربراہی سے میرے استعفے کی توثیق کی جائے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل برطانیہ کی سخت گیر وزیر داخلہ سویلا بریورمین نے حکومت سے استعفیٰ دے دیا تھا، جس کے بعد وزیر اعظم لز ٹرس کی بقا کے امکانات پر مزید شکوک پیدا ہو گئے تھے۔

سویلا بریورمین نے کہا تھا کہ انہوں نے اپنے ساتھی کو سرکاری دستاویز بھیجنے کے لیے اپنا ذاتی ای میل استعمال کرنے کے بعد استعفیٰ دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں