ترکیہ کی شمالی عراق میں کرد جنگجوؤں کے خلاف کیمیائی ہتھیاراستعمال کرنے کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ترکیہ نے ان دعووں کو’’مکمل طور پر بے بنیاد اور غلط‘‘قراردیا ہے، جن میں کہا گیا ہے کہ اس کی فوج نے شمالی عراق میں کالعدم کردستان ورکرزپارٹی (پی کے کے) کے جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔

پی کے کے کے قریبی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ ترک فوج انسداددہشت گردی کی کارروائیوں میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کر رہی ہے۔

لیکن ترک وزارت دفاع نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے:’’یہ الزام کہ 'کیمیائی ہتھیار' ترکیہ کی مسلح افواج استعمال کرتی ہیں...مکمل طور پر بے بنیاد اورغلط ہے۔پی کے کے خلاف جنگ میں فوج کی کامیابیوں پرسایہ ڈالنے کی کوشش میں کچھ لوگ یہ الزام عایدکررہے ہیں‘‘۔

ترک صدر کے ترجمان ابراہیم کیلن نے ان دعووں کو ’جھوٹ‘ پر مبنی اور فوج، پولیس اور انٹیلی جنس کے خلاف ’مذموم مہم‘ کا حصہ قراردیا ہے۔

کیلن نے ٹویٹ کیا کہ’’کیمیائی ہتھیاروں کا جھوٹ ان لوگوں کی بیکار کوشش ہے جودہشت گردی کو سفید کرنے اور جمالیاتی بنانے کی کوشش کرتے ہیں‘‘۔

دریں اثناء ترک استغاثہ نے ترک ڈاکٹرزیونین کی سربراہ سیبنم کورورفنکانسی کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔انھوں نے یہ کہا تھا کہ انھوں نے ایسی ویڈیواورتصاویر کا جائزہ لیا ہے جن سے پتاچلتا ہے کہ کردجنگجوؤں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’’یہ واضح ہے،اعصابی نظام کو براہ راست متاثر کرنے والی زہریلی کیمیائی گیسوں میں سے ایک کا استعمال کیا گیا ہے۔اگرچہ اس کا استعمال ممنوع ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اسے جھڑپوں میں استعمال کیاجاتاہے‘‘۔

سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو کی رپورٹ کے مطابق فنکانسی پر’ایک دہشت گرد تنظیم کے حق میں پروپیگنڈا کرنے' اور 'ترک قوم اور ترک ریاست کی توہین کرنے‘ کا الزام ہے۔

اے ایف پی کے مطابق فنکانسی نے اپنے خلاف تحقیقات کے آغازکی تصدیق کی ہے اورکہا کہ ’’انھوں نے تو کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق الزامات کی ’مؤثرتحقیقات‘ کا مطالبہ کیا تھا مگر الٹااستغاثہ نے ان ہی کے خلاف تحقیقات شروع کردی ہیں۔یہ بالکل حیرت کی بات نہیں ہے‘‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ وہ مجھے نشانہ بنا کر معاشرے کوالٹی میٹم دیاجارہا ہے۔

انٹرنیشنل فزیشنز فاردی پریوینشن آف نیوکلیئر وار (آئی پی پی این ڈبلیو) نے، جو 60 سے زیادہ ممالک میں طبی گروپوں کی ایک غیرجانبدار فیڈریشن ہے،ستمبرکے آخرمیں شمالی عراق میں ایک مشن بھیجا تھا۔اس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن کی ممکنہ خلاف ورزیوں کے کچھ بالواسطہ شواہد ملے ہیں۔

اس نے رپورٹ میں کہاہے کہ ترک فوج کے چھوڑے گئے علاقے کے قریب سے ملنے والے مواد میں ہائیڈروکلورک ایسڈ اور بلیچ کے لیے کنٹینرز شامل تھے، جنہیں کلاسیکی کیمیائی جنگی ایجنٹ کلورین تیارکرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔

پی کے کے نے سنہ 1984 سے ترکیہ کے جنوب مشرق میں کردوں کی خودمختاری کے مطالبے کی بنیاد پرایک مہلک شورش بپاکی تھی۔اس کے دوران میں کم سے کم پچاس ہزارافرادہلاک ہوچکے ہیں۔واضح رہے کہ انقرہ اور اس کے مغربی اتحادیوں نے پی کے کے کو ایک دہشت گرد گروپ قراردے رکھا ہے۔

ترک فوج نے شمالی عراق میں کردجنگجوگروپ کے عقبی ٹھکانوں کے خلاف پے در پے کارروائیاں کی ہیں اور ان کی وجہ سے بغداد حکومت اور انقرہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں مستقل کشیدگی پائی جاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں