پرانے فلمی پوسٹروں کے ساتھ؛ اثرا سینٹر میں ایک قابل ذکر سعودی کام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

مصری دارالحکومت قاھرہ میں گویا وقت گزشتہ صدی کی ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں واپس چلا گیا، اس وقت جب قاہرہ اپنی فنی اور موسیقی کی شان کے عروج پر تھا۔ اس شاندار دور کی رونق اک مرتبہ پھر کنگ عبدالعزیز سنٹر فار ورلڈ کلچر (اثرا) نے بحال کر دی۔ 11 اکتوبر سے 17 اکتوبر کے درمیان "قاھرہ کا ماحول" کے عنوان سے سرگرمیوں نے 50 ہزار افراد کو اپنی طرف متوجہ کیا۔

تاریخی اور ثقافتی سرگرمیوں پر مشتمل "قاھرہ کا ماحول" میں سعودی فنکار ايمن يسري ديّدبان کے کاموں نے خصوصی توجہ حاصل کی۔ انہوں نے اپنے اپنے فن "دیکوباج" کے ذریعہ مصری سینما کی 50 سال سے قبل کی بنائی گئی فلموں کے کے آئیکنز کے پوسٹرز کو یاد گار بنا دیا۔ دیکوباج یا فن تزئین میں قدیم تصاویر پر کام کیا جاتا ہے۔

سعودی فنکارا ایمن نے کہا میرے آرٹسٹک ڈیزائن پینٹنگز نہیں ہیں جتنا وہ آرٹسٹک دستاویزات ہیں۔ ان میں آرٹ کے دیو قامت لوگوں کے چہروں کے ساتھ عربی خطاطی اور دیگر شناختی علامات شامل کی گئی ہیں۔ میں ان پوسٹروں کو بامقصد بنانے کیلئے ٹشو بکس پر کام کرتا ہوں۔ ان پوسٹرز کوٹشو پیپرز پر لگایا گیا ہے۔ یہ وہ ثقافتی کام جس میں ایک فنکارانہ پیغام ہے ۔

'ٹشو' سیریز

آرٹسٹ ایمن نے جان بوجھ کر ٹشو بکس کا استعمال کیا۔ یہ ایک حساس رجحان ہے جو انہوں نے تخلیق کیا۔ کیونکہ ایمن پلاسٹک آرٹ کی دنیا میں ناواقف اجزاء سے بھرے اپنے کاموں سے اپنی پہچان بنا رہے ہیں۔

جب ان سے ان کے اس خیال کی ابتدا کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ اس سے کہاں متاثر ہوئے تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے 1991 عیسوی میں اس کام کا آغاز کیا۔ پھر 2008 میں خاص طور پر ایسی پینٹنگز کی تخلیق کا آغاز کیا جو کسی سے مشابہت نہیں رکھتی تھیں۔ اس کے بعد اپنے تجربات کی روشنی میں وہ فنی پختگی کے مراحل عبور کرتے گئے۔

انہوں نے مزید کہا میرے پاس ایک واقفیت ہے جو ناولوں کی تشکیل کے پیچھے ہونے والے عمل کے گرد گھومتی ہے۔ یادیں، تاریخ اور سینما فوٹیج کے ساتھ اصل فلمی پوسٹروں کو شامل کرکے میں نے بڑے پیمانے پر ایک آرٹ تخلیق کیا ہے جو بخوبی اظہار کرتا ہے۔ ایک فنکارانہ وژن کے ساتھ یہ خیال اب سعودی عرب سے کئی ممالک تک پرواز کر گیا ہے۔

عبدالحلیم حافظ

مزید برآں "قاہرہ کا ماحول" مرحوم مصور عبدلحلیم حفیظ کے شاہکاروں کو مدعو کیے بغیر مکمل نہیں ہوتا، جہاں "اثرا" مرکز نے بعلبک انٹرنیشنل فیسٹیول کے تعاون سے "عبد حلیم حفیظ کے شاہکار" کے عنوان سے ایک کنسرٹ منعقد کیا۔ اس کنسرٹ کی سرگرمیاں 6 دن جار رہیں۔ ایک شام مستند عرب موسیقی کے ماہروں کو اکٹھا کیا گیا، مصری فنکاروں محمد شوقی اور نوحہ حفیظ نے 50 موسیقاروں کی شرکت کے ساتھ مصری استاد ہشام جبر اور ہدایت کار عامر کے ساتھ رمسیس عربی موسیقی کی تاریخ کو دوبارہ زندہ کیا۔ اس موسیقی کو نسلیں آج بھی گاتی ہیں۔

كشري اور طعمية کی خوشبو

اس پروگرام میں ’’اثرا‘‘ مرکز کے پلازہ میں مختلف کونوں میں مختلف فنون کو پیش کیا جا رہا تھا۔ کچھ لوگوں نے مصر کے مشہور لوک فوڈز کو متعارف کرانے کی کوشش کی تھی۔ کچھ لوگ مقبول موسیقی سن کر لطف اندوز ہوئے ۔ آنے والوں نے خود کو ایک ایسی جگہ پر پایا جس نے اسے مصری ثقافت میں محو ہو جانے کا موقع دے دیا تھا۔ ’’ اثرا‘‘ کی جانب سے فراہم کردہ سہولیات نے ان مختلف کارنرز کے لطف کو مزید دوبالا کردیا تھا۔

مصر کے مشہور ترین کھانے ’’کشری‘‘ اور ’’طعمیہ‘‘ کی خوشبو مہک رہی تھی۔ کئی دیگر کھانے بھی آنے والوں کو متوجہ کر رہے تھے۔ اس ملک کی نبض کی عکاسی کرنے والے قدیم مصری مشروبات بھی موجود تھے۔ کٹھ پتلی تھیٹر بامقصد موسیقی کی پرفارمنس اور کہانیوں کے ساتھ گائیکی تھی۔ چاروں طرف مختلف گاڑیاں بھی موجود تھیں جو قدیم مصری طرز سے تیار کردہ اپنی سجاوٹ اور نوشتہ جات کے ساتھ ایک قدیم تاریخ بیان کر رہی تھیں۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کا کنگ عبدالعزیز سینٹر فار ورلڈ کلچر (اثرا) مختلف ممالک کے ثقافتی اور فنکارانہ پہلوؤں پر توجہ مرکوز کرتا اور دنیا کے ساتھ ثقافتی اور تہذیبی رابطے کو بڑھانے کے لیے ایسی تقریبات کا انعقاد کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں