چین اور روس کی طرف سے ابھرتے چیلنج، مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی میں کمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکہ نے روس اور چین کے حوالے سے اپنی تبدیل ہوتی تذویراتی ضرورتوں کے تحت مشرق وسطیٰ میں فوجی اڈے قائم کرنے والے اپنے فوجی شعبے کو بند کر دیا ہے۔ قومی سلامتی سکیورٹی سے متعلق ادارے کی انتظامیہ کے مطابق قومی سلامتی سے نئی حکمت عملی کا باضابطہ اجرا پچھلے ہفتے کیا گیا ہے۔

اس موقع پر محسوس کیا گیا ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی بالعموم امریکہ کی فوجی حکمت عملی اور ضرورتوں کے تابع رہی ہے۔ جس کی وجہ سے غیر حقیقی یقین کے تحت بنائی گئی ان پالیسیوں میں کئی غلطیوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔

اس پس منظر میں امریکی فضائیہ کا جو یونٹ سعودی عرب، عراق ، افغانستان اور خطے کے دیگر ملکوں کے اڈے قائم کرنے کا ذمہ دار تھا پینٹاگان نے اسے بند کر دیا ہے۔

نئی پالیسی میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ مشرق وسطیٰ کے لیے نئی پالیسی کی تیاری میں ہے جس کے تحت فوجی مداخلت یا موجودگی کے انداز کو تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اسی سبب فضائیہ کے اس یونٹ کو بندکیا گیا ہے اور قطر میں گذشتہ ہفتے کے اختتام پر اپنی اختتامی تقریب کر چکا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ واشنگٹن نے بتدریج اپنی فوجیوں کی ان علاقوں میں تعداد کم کی اور یہ تدریج کی حکمت عملی افغانستان سے 2021 میں یکایک امریکی فوجی انخلا کے بعد اختیار کی گئی ہے۔

مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی میں کمی کے حوالے سے سب سے پہلے رپورٹ کرنے والے ادارے کہ ائیر فورس کا 816واں ایکسپیڈیشنری ائیرلفٹ سکواڈرن کو گزشتہ ماہ غیر فعال کیا گیا تھا۔

نناویں 99 ویں مشن سپورٹ کے کمانڈر کرنل انتھونی فیجیرا نے اس بارے میں بتایا 'ہم اپنی ترجیحات تبدیل کر رہے ہیں۔' باوجودیکہ امریکہ مشرق وسطیٰ کے معاملات میں مداخلت کرتا رہے اور کرتا رہے گا ۔ امید ہے جیسا کہ ائیر فورس نے فروری میں اعلان کیا ہے 38 تعمیراتی منصوبے اگلے ماہ تک مکمل کر لیے جائیں گے۔

ان تعمیرات پر ایک ارب چالیس کروڑ ڈالر کی لاگت آئے گی۔ یہ تعمیرات اس بڑے منصوبے کا حصہ ہیں جو کمانڈرز کی کارکردگی کو بہتر رکھنے کے لیے ائیر فیلڈز کی اپ گریڈنگ اور فضائیہ کی پروازوں کو درست رکھنے کے لیے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں