سعودیہ اور چین کے درمیان توانائی کے شعبے میں دو طرفہ تعاون اور سرمایہ کاری کا فیصلہ

تیل کی عالمی منڈی میں استحکام کے لیے ملکر چلنے پر دونوں کے توانائی وزیروں میں اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان اور چین کے قومی توانائی کے منتظم ژانگ جیان ہوا کے درمیان اس امر پر اتفاق کیا گیا ہے کہ تیل کی منڈی میں استحکام کے لیے دونوں ممالک ملکر کام کریں گے۔

سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق دونوں ملکوں کے توانائی سے متعلق اہم ذمہ داروں کے درمیان جمعہ کے روز آن لائن ہونے والی میٹنگ ہوئی۔ اس دوران توانائی کے حوالے سے باہم ملک کر چلنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس سلسلے میں دو طرفہ رابطے اور تعاون جاری رہے گا۔ تاکہ درپیش توانائی چیلنجوں کو مقابلہ کیا جا سکے۔

دونوں ملکوں کے توانائی ذمہ داروں نے طویل مدتی اور قابل بھروسہ انداز میں تیل کی عالمی سطح پر فراہمی کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے تاکہ متحرک اور مستحکم عالمی منڈی موجودہ چیلنجوں کا مقابلہ کرنے لیے موجود ہو۔

فریقین نے اس امر پر بھی اتفاق کیا ہے کہ دو طرفہ تعاون کے علاوہ بیلٹ اینڈ روڈ کے ساتھ جڑے ملکوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کی جائے گی ۔ یہ سرمایہ کاری ریفائنریز اور پٹروکیمیکل کامپلیکسز کے شعبے میں کی جائے گی۔

سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق چینی صنعتکاروں کی تیار کردہ اشیا کی کھپت کے لیے ایک علاقائی مرکز قائم کیا جائے گا۔ اس کے لیے سعودی عرب کے محل وقوع اور جغرافیہ کو دیکھا جائے گا کہ اس میں چین کے تیار کردہ مال کے لیے امکنات کی صورت کیسے کیسے ہو سکتی ہے۔

دونوں وزرا توانائی کی طرف سے بجلی کے شعبے میں پیداوار اور قابل تجدید توانائی کے شعبے میں بھی باہمی تعاون کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں