فلسطینی نوجوان عدی التمیمی کی شہادت پر تحریک فتح کی کال پر مغربی کنارے میں مکمل ہڑتال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں فلسطینی نوجوان کی شہادت کے بعد مغربی کنارے میں جمعرات کے روز مکمل ہڑتال کی گئی۔ بدھ کی شام 20 سالہ فلسطینی عدی التمیمی نے ایک یہودی بستی کے داخلی راستے پر اسرائیلی گارڈز پر فائرنگ کردی تھی ۔ جواب میں صہیونی فورسز نے گولی مار کر عدی کو شہید کردیا تھا۔

ہڑتال کی کال تحریک الفتح نے دی تھی۔ عدی التمیمی نے مشرقی القدس اور بحیرہ مردار کے درمیان واقع بستی معالی ادومیم کے باہر اسرائیلیوں پر حملہ کیا تھا۔

ایک ویڈیو میں التمیمی اپنی پستول سے بستی کے محافظوں پر گولی چلاتے ہوئے نظر آئے۔ اس دوران اسرائیلی فورسز ان پر شدید فائرنگ کررہی تھی تاہم التمیمی نے فائرنگ کی پروا نہ کرتے ہوئے گارڈز پر فائرنگ کی۔

تحریک الفتح نے اپنے بیان میں کہا فلسطینی شہری اپنے بہادر اور شہید ہیرو کی خاطر ریلیاں نکالیں ۔

اے ایف پی کے نامہ نگاروں اور فوٹوگرافروں نے بتایا کہ ہڑتال میں مشرقی القدس ، رام اللہ، الخلیل، بیت لحم، طولکرم اور جنین میں ہر شعبہ زندگی کے افراد نے حصہ لیا۔ سکولوں، یونیورسٹیوں حتیٰ کہ فلسطینی اتھارٹی کے اداروں اور وزارتوں کے ساتھ ساتھ این جی اوز کے دفاتر بھی بند رہے۔

مکمل ہڑتال کے باعث شہروں کے درمیان عوامی آمدورفت رک گئی۔ دیہاتوں اور کیمپوں میں بھی تاجروں نے شہید التمیمی سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے دکانیں بند رکھیں۔

دوسری طرف اسرائیلی وزیر اعظم یائر لاپیڈ نے عدی تمیم کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے سیکورٹی فورسز کو اسے ہلاک کرنے پر مبارک باد پیش کردی ۔ عدی تمیمی شعفاط کیمپ پر حملے کے بعد ایک اور حملے کی تیاری کر رہا تھا۔ یاد رہے شعفاط کیمپ پر حملے میں داخلی راستے کی چوکی پر تعینات اسرائیلی خاتون فوجی 18 سالہ نووا لازار کی ہلاکت ہوئی تھی۔

دریں اثنا فلسطینی وزارت صحت نے جمعرات کو 16 سالہ لڑکے محمد نوری کی موت کا اعلان کردیا۔ محمد نوری ستمبر کے آخر میں البیرہ شہر کے شمالی داخلی راستے پر ہونے والی جھڑپوں کے دوران اسرائیلی فوج کی گولیوں سے زخمی ہوگیا تھا۔

واضح رہے شمالی مغربی کنارے خاص طور پر جنین اور نابلس کے علاقوں میں حالیہ مہینوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ علاقے فلسطینی مسلح دھڑوں کے مضبوط گڑھ ہیں۔ان علاقوں میں مارچ اور اپریل میں اسرائیلی اہداف کے خلاف خونریز حملوں کے بعد اسرائیلی فورسز نے اپنی کارروائیاں تیز کردی ہیں۔

ان علاقوں میں اکثر فلسطینی باشندوں کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں کے بعد اسرائیلی کارروائیوں میں 100 سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق مغربی کنارے میں تقریبا سات برسوں میں یہ شہید ہونے والے فلسطینیوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں