پاسداران انقلاب کاسُنی عالم پر’اسلامی جمہوریہ‘کےخلاف نوجوانوں کو’مشتعل‘کرنےکاالزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب نے ایک معروف سُنی عالم دین پر اسلامی جمہوریہ کے خلاف احتجاج انگیخت کرنے کا الزام عاید کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ انھیں اس کی بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔ انھوں نے گذشتہ ماہ زاہدان شہر میں درجنوں افراد کے قتل کا ذمہ دار سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت دیگر حکام کو قرار دیا تھا۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق سکیورٹی فورسز نے 30 ستمبر کو جنوب مشرقی شہر زاہدان میں نماز جمعہ کے بعد کریک ڈاؤن میں کم سے کم 66 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

زاہدان کے معروف سنی عالم دین مولوی عبدالحمید نے گذشتہ روز نمازِ جمعہ کے خطبے میں کہا تھا کہ شیعہ اکثریتی ریاست کے سربراہ اور سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت دیگر حکام 30 ستمبر کو ہونے والے قتل عام کے ذمہ دار ہیں۔

سپاہ پاسداران انقلاب کی سرکاری نیوز سائٹ سپاہ نیوز پر اس کے ردعمل میں ایک مختصر بیان جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ جناب عبدالحمید، نوجوانوں کی مقدس اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف حوصلہ افزائی اور انھیں مشتعل کرنا آپ کومہنگا پڑ سکتا ہے۔یہ آخری انتباہ ہے‘‘۔

گذشتہ ماہ 22 سالہ ایرانی کرد خاتون مہسا امینی کی موت کے ردعمل میں شروع ہونے والے مظاہرے 1979 کے انقلاب کے بعد ایران کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔

اگرچہ یہ مظاہرے نظام کا تختہ الٹنے کی راہ ہموار نہیں کر سکتے لیکن بدامنی نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور نسلی اقلیتوں کے آبائی علاقوں میں بھی مظاہرے جاری ہیں اور وہ ریاست کے خلاف اپنی دیرینہ شکایات کو اجاگر کر رہے ہیں۔

زاہدان پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر ایران کے جنوب مشرقی صوبہ سیستان بلوچستان کا دارالحکومت ہے۔ یہاں بلوچ نسل کے سنی مسلمانوں کی اکثریت ہے اور وہ ملک کی اکثریتی اہل تشیع کے مقابلے میں اقلیت شمار ہوتے ہیں۔

ایران کے سرکاری میڈیا نے قبل ازیں 30 ستمبر کو رونما ہونے والے تشدد کے واقعات کے بارے میں بتایا تھا کہ ’نامعلوم مسلح افراد‘ نے پہلے ایک پولیس اسٹیشن پر فائرنگ کی تھی جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے جوابی فائرنگ کی تھی۔

پاسداران انقلاب نے تشدد کے واقعات میں اپنی فورسز اور رضاکار بسیج ملیشیا پانچ اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔ حکام نے ایک بلوچ عسکریت پسند گروپ کو ان واقعات کا مورد الزام ٹھہرایا ہے لیکن اس گروپ اور نہ ہی کسی دوسرے دھڑے نے تشدد کے واقعات میں کسی کردار کا دعویٰ کیا ہے۔

مزید مظاہرے

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق زاہدان میں جمعہ کو ایک بار پھر احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔ ان کے بعد نائب وزیر داخلہ ماجد میر احمدی نے کہا ہے کہ شہر میں امن بحال ہو گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ 150 ٹھگوں نے عوامی املاک اور یہاں تک کہ اہلِ سنت کی دکانوں پر بھی حملہ کیا تھا۔

ارنا نے صوبائی پولیس کے سربراہ احمد طاہری کے حوالے سے بتایا ہے کہ جمعہ کے روز پولیس نے 57 افراد کو گرفتار کیا اور انھیں 'فسادی' قرار دیاہے۔ مظاہرین نے شہر میں پتھراؤ کیا اور بینکوں پر حملے کیے تھے۔

سرکاری ٹیلی ویژن کا کہنا ہے کہ نماز جمعہ کے بعد 300 سے زائد مظاہرین نے شہر میں مارچ کیا۔ اس کی فوٹیج میں میں بینکوں اور دکانوں کی ٹوٹی ہوئی کھڑکیوں کے ساتھ دکھایا گیا تھا۔

سنی عالم دین عبدالحمید نے 30 ستمبر کی ہلاکتوں کو کو قتل عام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’سروں اور سینوں پر گولیاں چلائی گئی ہیں۔ یہاں بہت سے لوگ مارے گئے مگر میرے پاس صحیح تعداد نہیں ہے۔ انھوں نے اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ کیے گئے خطبے میں کہا کہ بعض نے 90 افراد کی گرفتاری کی اطلاع دی ہے،کچھ کم بتاتے ہیں اور کچھ زیادہ کہتے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومت طویل عرصے سے کردوں سمیت نسلی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہے۔ ان کے علاقوں میں امینی کی موت کے بعد سے حالات خراب ہیں جبکہ ایرانی ریاست امتیازی سلوک کے الزامات کی تردید کرتی ہے۔

ایران نے بدامنی کا الزام مسلح مخالفین سمیت دشمنوں پر عاید کیا ہے۔ سپاہ پاسداران انقلاب نے ہمسایہ ملک عراق میں مسلح ایرانی کرد گروپوں کے ٹھکانوں پر حملے بھی کیے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں ہینگاو نے اطلاع دی ہے کہ ایران کے صوبہ کردستان کے صوبائی دارالحکومت سنندج اور امینی کے آبائی شہر سقز کے علاوہ شمال مغربی شہر بوکان میں دکانداروں نے ہفتے کے روز ہڑتال کی تھی۔

ایرانی کارکنان کی خبر رساں ایجنسی ’ہرانا‘ نے جمعہ کو خبر دی تھی کہ ملک بھر میں جاری بدامنی میں 244 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں 32 نابالغ بھی شامل ہیں۔ سرکاری ٹی وی نے بدامنی کے دوران میں سکیورٹی فورسز کے 26 اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں