کنزرویٹو پارٹی میں تاریخی تقسیم، کیا جانسن اور سونک کوئی سرپرائز دے پائیں گے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

برطانیہ کی حکمران کنزرویٹو پارٹی کو تاریخ میں سب سے زیادہ تقسیم کا شکار ہوگئی ہے۔ ان حالات میں لگتا یہ ہے کہ پارٹی کے بہت سے رہنماؤں نے سابق وزیر اعظم بورس جانسن اور ان کے سابق مشیر رشی سنک دونوں پر زور دیا ہے کہ وہ کنزرویٹوز کے درمیان ایک ایسا معاہدہ کریں جو ملک کو خانہ جنگی میں دھکیلے جانے سے بچا سکے۔

اتوار کے روز برطانوی اخبار ’’ٹیلی گراف‘‘ نے کہا کہ ہفتے کے روزجانسن اور سونک نے 11 گھنٹوں پر محیط میراتھن مذاکرات کیے ۔ سابق وزیر اعظم کے اتحادیوں نے اعلان کیا کہ انہوں نے پارٹی کی قیادت اور حکومت کی سربراہی کے لیے مقابلے کے دوسرے مرحلے میں جانے کے لیے درکار 100 ووٹ حاصل کر لیے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق جانسن کے حامیوں نے سونک اور بینی مورڈانٹ (سابق وزیر جنہوں نے ابھی تک انتخابی دوڑ کے دوسرے مرحلے میں اپنی منتقلی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری 100 ووٹ حاصل نہیں کیے ہیں) کے حامیوں پر دباؤ ڈالا تاکہ ان کی حمایت کا محور تبدیل کیا جائے۔ اس طرح انہوں نے پارٹی کو متحد کرنے کی اپنی صلاحیت کو ثابت کرنے کے لیے کافی حمایت حاصل کر لی۔

یہ کوششیں اس وقت ہوئی ہیں جب جانسن کل صبح لندن گئے ، وہ اپنے استعفیٰ کے بعد سے کیریبین میں گزاری گئی چھٹیوں سے واپس لوٹے تھے، ان کو جب سکینڈلز کے ایک سلسلہ کے بعد حکومت سے نکال دیا گیا تھا اس وقت سے وہ اپنی سابقہ پوزیشن کو بحال کرنے کی کوشش میں ہیں۔ پارٹی کی اہم شخصیات کی جانب سے ان خدشات کا اظہار کیا گیا کہ جانسن اور سونک دونوں جانب سے بہت سے ارکان پارلیمان حریف امیدوار کی قیادت قبول کر سکتے ہیں۔

رعایت اور سودے بازی

اس تناظر میں پارلیمنٹ کے ایک سینئر رکن نے کہا کہ رشی سونک اور بورس کو اپنی اپنی طاقتوں کو پہچانتے ہوئے سمجھوتہ کرنا چاہیے۔ سینئر رکن نے یہ بھی کہا کہ رشی کو ووٹروں کی طرف سے حقیقی حمایت یا اختیار حاصل نہیں ہے کیونکہ 100 ووٹ حاصل کرنے کا مطلب عوامی حمایت نہیں ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بورس "تقسیم پسند" تھے اور اب سب سے اہم ہدف پارٹی کے اندر اتحاد ہے۔

پارٹی کی بقا کو خطرہ

سینئر پارٹی رکن نے اتحاد کے حصول کے امکان کے بارے میں مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ میرے خیال میں پارٹی اتنی تقسیم ہے، گزشتہ چند برس میں پارٹی کی رگوں میں اتنا زہر ڈال دیا گیا ہے کہ چاہے جو بھی جیتے پارٹی کے لیے چھ سے نو ماہ تک زندہ رہنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔

اسی حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سابق وزیر نے کہا کہ پارٹی میں پھوٹ کو روکنے کے لیے ایک معاہدے کے لیے بھی بہت دیر ہو چکی تھی۔

موت کا چکر

سابق کنزرویٹو رہنما ولیم ہیگ نے کہا کہ جانسن کی واپسی پارٹی کے لیے "موت کے چکر" کا باعث بنے گی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جانسن کی جیت صحافی اور لندن کے سابق میئر کے لیے ایک شاندار واپسی ہو گی جنہوں نے سکینڈلز کے طوفان کے درمیان ڈاؤننگ سٹریٹ کو چھوڑ دیا تھا۔ اس وقت ان کی پارٹی کے ساتھی ممبران پارلیمنٹ پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ "قواعد آدھے راستے میں بدل رہے ہیں تاکہ جانسن اپنی مدت پوری نہ کرسکیں۔

بہرحال جانسن اور رشی سونک کے درمیان پارٹی تباہ کن تقسیم کے جال میں پھنسنے سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ تقسیم کچھ عرصہ سے بڑھتی جارہی ہے۔ تقسیم کا اندازہ خاص طور پر اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ چھ سال کے اندر چار وزرائے اعظم تبدیل ہوئے ہیں۔ گزشتہ دنوں اس تقسیم میں مزید اضافہ ہوا ہے اور اب بہت سے ارکان پارلیمان اور پارٹی عہدیداران اس پوزیشن میں نہیں جانسن اور سونک دونوں ناموں میں سے کس کا انتخاب کریں ۔ دونوں میں بڑے کانٹے کا مقابلہ دکھائی دے رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں