ہو جن تاؤ کمیونسٹ پارٹی کانفرنس سے خرابی صحت کے باعث باہر گئے تھے: چینی میڈیا

شی جن پنگ نے تاریخی تیسری مدت صدارت حاصل کرکے اقتدار مستحکم کرلیا: وفادار ساتھیوں نے بھرپور مدد کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

چین کے سرکاری میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ چین کے سابق صدر ہوجن تاؤ کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی جب وہ ہفتہ 22 اکتوبر کو کمیونسٹ پارٹی کی کانفرنس سے غیر متوقع طور پر باہر چلے گئے تھے۔

یاد رہے 79 سالہ ہوجن تاؤ نے 2003 سے 2014 تک چین کی صدارت کی ہے۔ انہیں ایک مصلح سمجھا جاتا ہے۔

چین کی نئی نیوز ایجنسی نے ٹویٹر پر کہا "ہوجن تاؤ نے اختتامی تقریب میں شرکت پر اصرار کیا، حالانکہ انہیں صحت یاب ہونے کے لیے وقت درکار تھا۔ جب سیشن کے دوران ان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو ان کی ٹیم آرام کرنے کے لیے ان کو لے کر ملحقہ ہال میں چلی گئی۔ وہ اب کافی بہتر حالت میں ہے۔"

اس سے قبل خبر گردش کر رہی تھی کہ ہوجن تاؤ کو ان کی مرضی کے خلاف ہال سے باہر نکال دیا گیا، کہا گیا کہ ملازمین میں سے ایک نے ان پر زور دیا کہ وہ صدر شی جن پنگ کے ساتھ والی نشست سے اٹھ جائیں اور ان کی مرضی کے خلاف انہیں ہال سے باہر لے جایا گیا۔ اس دوران ہو جن تاؤ نے مزاحمت بھی کی۔

ہوجن تاؤ نے اپنے ساتھ وہ دستاویزات لے جانے کی کوشش بھی کی جو ان کی میز پر موجود تھیں، لیکن شی جن پنگ نے وہ دستاویز اپنی طرف کرلیں۔ اس کے بعد ہوجن تاؤ اور ملازم کے درمیان ایک منٹ طویل بات چیت ہوئی۔

کھڑے ہو کر ہوجن تاؤ نے شی جن پنگ کے ساتھ مختصر گفتگو کی، شی جن پنگ نے ان کی طرف دیکھے بغیر جواب دیا۔ ہو جن تاؤ نے اگلی سیٹ پر بیٹھے وزیر اعظم کے کندھے پر تھپکی بھی دی۔

ہوجن تاؤ گزشتہ اتوار کو کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر نظر آئے تو عمر رسیدگی کے آثار اور اپنے بال مکمل طور پر سفید ہو نے کے باعث انہوں نے لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی تھی۔

مصلح کو نکال دیا گیا

اس موقع کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا کہ چین کے مصلح اور سابق صدر ہوجن تاؤ کو بظاہر ان کی مرضی کے خلاف جانے پر آمادہ کیا گیا۔ کلرک نے انہیں بازو سے پکڑا ہوا ہے۔

تاہم اس حوالے سے کوئی سرکاری وضاحت جاری نہیں کی گئی۔ چینی حکام نے بھی اس حوالے سے کئے کئے سوالات کا جواب نہیں دیا۔

پچھلی نسل کیلئے مکمل ذلت

چین میں لگ یہ رہا ہے کہ انٹرنیٹ پر سابق صدر کے نام کا کوئی بھی حالیہ حوالہ دیا جائے تو اسے سنسر کیا جا رہا ہے۔

یوریشیا گروپ کے تجزیہ کار نیل تھامس نے کہا کے کہ اضافی معلومات کی عدم موجودگی میں اس واقعے اور چینی پالیسی کے درمیان تعلق کے بارے میں نتیجہ اخذ کرنا مشکل ہے۔

چین میں رہنے والے برطانوی تجزیہ کار ایلکس وائٹ نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ چاہے یہ جان بوجھ کر ہو یا آدمی بیمار ہو، اثر ایک ہی ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ پہلے کے دور کے رہنماؤں کی آخری نسل کے لیے صرف سراسر تذلیل ہے۔ ہفتہ کی سہ پہر ہوجن تاؤ کا نام ویبو سوشل نیٹ ورک پر سنسر ہوتا دکھائی دیا۔

نئی مرکزی کمیٹی سے لی کی چیانگ کا نام خارج

اپنی کانفرنس کے اختتام پر کمیونسٹ پارٹی آف چائنا نے پارٹی لیڈر کے طور پر ایک تاریخی تیسری مدت کیلئے شی جن پنگ کی اہم پوزیشن کی باضابطہ تصدیق کر دی

بیجنگ میں کانگریس کے اختتام سے قبل مندوبین کی طرف سے متفقہ طور پر منظور کی گئی ایک قرارداد اور پارٹی کے چارٹر میں ترامیم سمیت کہا گیا کہ تقریباً 97 ملین اراکین کو "سی پی سی کی مرکزی کمیٹی اور مجموعی طور پر پارٹی میں شی جن پنگ کی مرکزی حیثیت کی حمایت کرنی چاہیے۔"

اس طرح یہ بات یقینی ہے کہ شی جن پنگ اتوار کو پارٹی کے سربراہ کے طور پر تیسری بار جیت جائیں گے۔ اور نئی مرکزی کمیٹی کے پہلے اجلاس کے بعد ملک کے سربراہ ہوں گے۔

تقریب کے اختتام پرشی جن پنگ نے مندوبین سے فتح کی جدوجہد میں جرات مندانہ کردار ادا کرنے، سخت محنت کرنے کا کہا ۔ انہوں نے کہا سب آگے بڑھنے کے لیے پرعزم ہوں۔

پارٹی کی کانفرنس ہر پانچ سال بعد ہوتی ہے۔ کانفرنس کے اختتام پر مرکزی کمیٹی کی نئی تشکیل کا اعلان کیا گیا۔ یہ کمیٹی پارٹی کے لیے ایک اندرونی "پارلیمنٹ" کا کام کرتی ہے۔

نیو چائنا نیوز ایجنسی کی جانب سے شائع کی گئی اراکین کی فہرست میں کمیونسٹ پارٹی کی چار سینئر شخصیات شامل نہیں ہیں جن میں موجودہ وزیر اعظم لی کی چیانگ بھی شامل ہیں جو اگلے مارچ میں اپنی ذمہ داریاں چھوڑ دیں گے۔

چین کے تیسرے عہدیدار لی ژانشو، نائب وزیر اعظم ہان کنگ اور چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کے سربراہ وانگ یانگ بھی مرکزی کمیٹی کی فہرست میں موجود نہیں ہیں۔

یاد رہے وانگ یانگ جنہیں پارٹی کی سب سے زیادہ آزاد خیال آوازوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اگلی حکومت کی سربراہی کے لیے ممکنہ ناموں میں سے ایک تھے ۔

مختلف اندازوں کے مطابق نئی مرکزی کمیٹی کے اراکین میں گزشتہ لائن اپ کے مقابلہ میں 65 فیصد تبدیلی کردی گئی ہے۔ یہ لائن اپ 2017 میں تشکیل دیا گیا تھا۔

205 ارکان پر مشتمل نئی کمیٹی میں صرف 11 خواتین شامل ہیں۔ کمیٹی اتوار کو اپنا پہلا اجلاس منعقد کرے گی جس کے دوران نئے پولٹ بیورو کے 25 ارکان، کمیونسٹ پارٹی کی فیصلہ کن باڈی اور اس کی مستقل کمیٹی کے ارکان کا تقرر کیا جائے گا۔

یہ طاقتور ادارہ جو اب سات ارکان پر مشتمل ہے چین میں اصل طاقت رکھتا ہے۔

کمیٹی میں وفادار ساتھیوں کی اکثریت

برلن میں مرکٹر انسٹی ٹیوٹ فار چائنیز سٹڈیز کے نیس گرنبرگ نے کہا ہے کہ نئی کمیٹی ترامیم کے بعد شی جن پنگ کی وفادار شخصیات کی اکثریت پر مشتمل ہوگئی ہے۔

اسی لئے چین کے متعدد ماہرین کو توقع نہیں ہے کہ صدر کا کوئی ممکنہ جانشین ابھرے گا۔

کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکرٹری کے طور پر شی جن پنگ کی مدت کی تجدید تقریباً یقینی طور پر ہو جائے گی اور وہ مارچ میں ایک نئی پانچ سالہ مدت حاصل کر لیں گے۔

تجزیہ کار نیل تھامس نے کہا "یہ تیسری مدت چین میں تین دہائیوں پر محیط طاقت کی گردش کو ختم کر دے گی"۔

اقتدار میں رہنے کے لیے شی جن پنگ نے 2017 میں آئین سے دو مدت کی حد کو ختم کر دیا تھا ، جس کے بعد وہ نظریاتی طور پر تاحیات ملک کے سربراہ رہنے کے قابل ہو گئے۔

شی جن پنگ سب سے بالا تر

1921 میں کمیونسٹ پارٹی کے قیام کے بعد سے یہ پارٹی کی 20 ویں کانفرنس تھی جو چین کے لیے نازک حالات میں منعقد ہوئی۔ چین کو مسلسل بندش، قرنطینہ کے اقدامات اور مغرب کے ساتھ سفارتی تناؤ کی وجہ سے اپنی اقتصادی ترقی میں سست روی کا سامنا کرنا پڑا۔ .

اس تناظر میں پارٹی اور ملک کی قیادت کی ٹیم کو تبدیل کرنے اور دنیا کی دوسری اقتصادی طاقت کے مستقبل کی جہات کو ترتیب دینے کیلئے پارٹی کے مختلف اداروں کی طرف سے منتخب کیے گئے تقریباً 2,300 مندوبین نے ایک ہفتے کے دوران کئی بند کمرہ اجلاس منعقد کئے۔

خیال رہے 2012 کے اواخر میں صدر کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد سے شی جن پنگ نے اقتدار کو اپنے ہاتھوں میں مرکوز کرلیا ہے۔

نظام کی مضبوطی

کانفرنس کی افتتاحی تقریر میں شی جن پنگ نے اپنی پالیسیوں کے تسلسل پر زور دیا۔ اسی لئے توقع کی جارہی ہے چاہے اس پالیسی سے معیشت پر سنگین اثرات ہوں یا عوامی عدم اطمینان ہو چین ’’ زیرو کووڈ‘‘ پالیسی کے تحت ہی آگے بڑھے گا۔

چین کا خاص طور پر تائیوان کے معاملے پر امریکہ کے ساتھ تناؤ بڑھنے کا خطرہ ہے۔ کمیونسٹ پارٹی نے اس سلسلے میں پہلی بار اپنے چارٹر میں ایک حوالہ شامل کرنے کا فیصلہ کیا جس میں بیجنگ کی جانب سے 23 ملین کی آبادی والے جزیرے کی آزادی کی "مخالفت" کی تصدیق کردی گئی۔

شی جن پنگ نے 2012 میں چین کی قیادت سنبھالی اور ہر قسم کی مخالفت کے خلاف زبردست ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آہستہ آہستہ ماؤ زے تنگ کے دور حکومت (1949-1976) کے بعد سب سے زیادہ طاقتور رہنما بن گئے۔ شی جنگ پنگ نے بدعنوانی کے خلاف ایک زبردست مہم کی بھی قیادت کی جس نے انہیں اس قابل بنایا کہ وہ اپنی حریف حکومت کو ختم کر سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں