اسرائیلی یونیورسٹی میں آئن سٹائن کی دستاویزات کے لیے عجائب گھر قائم ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل نے آئن سٹائن کے سے متعلق عجائب گھر بنانے پر خرچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عجائب گھر یونیورسٹی عبرانی یونیورسٹی کے گیوات رام کیمپس میں قائم ہو گا ۔ جس کے بانیوں میں آئن سٹائن کا نام بھی شامل ہے۔

اسرائیل اس مقصد کے لیے چھ ملین ڈالر سرکاری طور پر دے گا جب کہ یونیورسٹی اپنے طور پر اس مقصد کے لیے بارہ ملین ڈالرجمع کرے گی ۔ تاکہ اس منصوبے کو مکمل کیا جا سکے۔

البرٹ آئن سٹائن کا انتقال 1955 میں 76 سال کی عمر میں ہوا۔ اس یونیورسٹی کے غیر رہائشی گورنروں میں ایک نام آئن سٹائن کا تھا۔ فزکس کے شعبے کے بڑے ماہرین میں سے ، 1921 میں نوبل انعام اسی فزکس کے حوالے سے خدمات کی بنیاد پر ملا۔

بتایا گیا ہے کہ عبرانی یونیورسٹی میں آئن سٹائن کی دستاویزات کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔ اسرائیل کی طرف سے کہا یہ گیا ہے کہ آئن سٹائن نے یونیورسٹی کو اپنی دستاویزات محفوظ کرنے کی وصیت کی تھی۔

اس وقت یونیورسٹی میں مقابلتا سب سے بڑی تعداد تعداد اسی یونیوسٹی کے پاس ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے ۔ یونیوسٹی کے مطابق 85000 دستاویزات اور مخطوطوں کا ذخیرہ اسی یونیورسٹی میں رپورٹ کیا گیا ہے۔

یونیورسٹی کے مطابق آئن سٹائن کا یہ ذخیرہ سائنسی اور تکنیکی تعلیم کے لیے کار آمد بنایا جائے گا۔ نظریہ اضافیت کے بانی اور جگہ اور وقت کی حرکت کے بارے میں نظریات کی پیش کاری کی وجہ سے آئن سٹائن فزکس کے حوالے سے آج کی دنیا کا بہت بڑا نام ہے۔

آئن سٹائن کے ہاتھ لکھے ہوئے کاغذات دنیا میں بھاری قیمت سے نوادرات کے طور پر خریدنے والوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں