زیر سمندر کیبلز سے بجلی کی ترسیل : سعودیہ اور بھارت کا 18 ارب ڈالر کے منصوبے پر غور

بجلی کی تار ہندوستان کے مغربی ساحل سے سعودی عرب جائے گی: اکنامک ٹائمز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

"اکنامک ٹائمز" اخبار کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سعودی عرب اور ہندوستان بجلی کی ترسیل کے لیے زیر سمندر تاریں بچھانے کے منصوبے پر غور کر رہے ہیں جس سے ہندوستان کے مغربی ساحل کو سعودی عرب سے ملایا جا سکے گا۔

یہ منصوبہ اس ایجنڈے کا حصہ بننے والا ہے جس پر سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان اگلے جمعہ کو نئی دہلی کے دورہ کے دوران بحث کی جائے گی ۔ اس دورہ کا مقصد نومبر میں سعودی وزیر اعظم اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ہندوستان کے دورے کی تیاری کرنا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے جو دیکھا اس کے مطابق ذرائع نے بھارتی اخبار کو بتایا ہے کہ دونوں فریقوں میں ایک پاور نیٹ ورک کے لیے زیر سمندر کیبل پر بات چیت شروع کرنے کا امکان ہے۔ اس نیٹ ورک میں میں جنوبی ایشیا اور خلیجی ریاستیں شامل ہیں۔

متحدہ عرب امارات کا الحاق

اخبار نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات کے لیے اس منصوبے میں شامل ہونا ممکن ہے، اس منصوبے کے سرمائے کی لاگت اندازوں کے مطابق 15 سے 18 بلین ڈالر کے درمیان ہوسکتی ہے۔ تاہم یہ حتمی لاگت نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق بھارت میں سعودی سفیر نے ٹاٹا گروپ، ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ، جے ایس ڈبلیو، سٹرلائٹ پاور اور اڈانی جیسی بڑی کمپنیوں کو دعوت نامے بھیجے ہیں۔

واضح رہے بھارت سعودی ولی عہد کا سفر کا پہلا پڑاؤ ہوگا جس کے بعد وہ انڈونیشیا، جنوبی کوریا اور جاپان بھی جائیں گے۔

بھارتی گجرات کے ساحل موندرا کی بندرگاہ اور بحیرہ عرب کی دوسری جانب امارات فجیرہ کے درمیان فاصلہ 1600

کلومیٹر ہے۔ متبادل طور پر یہ کیبل 1200 کلومیٹر دور عمان سے بھی گزر سکتی ہے ۔ اس فاصلہ میں سب سے زیادہ گہرائی 3.5 کلومیٹر ہے۔

باخبر ذرائع کے مطابق تیل اور قدرتی گیس کے حکام نے 3 سال قبل منصوبہ کی فزیبلٹی سٹڈی کی تھی۔

یہ منصوبہ صرف 15 منٹ میں توانائی کا دو طرفہ بہاؤ فراہم کرے گا۔

توانائی کی سفارت کاری

واضح رہے کہ بہت سے ممالک توانائی کے لیے برقی تاروں کے ذریعے براعظموں کو جوڑ رہے ہیں۔

تیل اور گیس کی اونچی قیمتوں کے تناظر میں یورپ کو بھی توانائی کے بحران کا سامنا ہے، روس 2021 میں تیل اور گیس کا سب سے بڑا سپلائر تھا جو یورپی یونین کی توانائی کی کل ضروریات کا تقریباً 40 فیصد فراہم کرتا تھا۔

برطانیہ اور ناروے بھی سمندر کے نیچے 800 کلومیٹر طویل کیبل کے ذریعے ہائیڈرو اور آف شور ونڈ پاور کا اشتراک کر رہے ہیں۔

یونان یورپ میں توانائی کے سب سے زیادہ پرجوش منصوبوں میں سے ایک پر کام شروع کر رہا ہے۔ یونان اپنے الیکٹرک گرڈ کو مصر میں بجلی کے گرڈ سے جوڑ کر پانی کے اندر کیبل بچھا کر 3000 میگا واٹ بجلی منتقل کرے گا یہ بجلی 4.5 گھروں کو فراہم کرنے کیلئے کافی ہے۔

یہ کیبل شمالی مصر سے براہ راست یونان کے اٹیکا تک جائے گی ۔ اس منصوبے کو کوپیلوزوس گروپ نے شروع کیا ہے۔

3.5 ارب یورو کی لاگت سے انٹر کنیکشن منصوبے GREY کو یورپی یونین کی جانب سے شروع کیا گیا مشترکہ دلچسپی کا اہم منصوبہ سمجھا گیا ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ منصوبہ یورپی یونین کے توانائی کے نظام کے بنیادی ڈھانچے کو جوڑنے کے لئے ایک اہم ترجیح ہے۔

مصر اور دیگر افریقی ممالک میں پیدا ہونے والی صاف بجلی کو ہوا اور شمسی فارموں کے ذریعے پانی کے اندر کیبلز کے ذریعے منتقل کیا جائے گا۔

مصر نے پہلے ہی لیبیا، سوڈان اور سعودی عرب کے ساتھ باہمی رابطے کے منصوبے مکمل کر لیے ہیں، مصر جنوب مشرقی یورپ میں توانائی کا ایک بڑا مرکز بننے کا خواہاں ہے۔

اسی طرح4 ہائی وولٹیج ڈائریکٹ کرنٹ برقی کیبلز برطانیہ کے جنوبی ساحل سے 3800 کلومیٹر دور سمندر کے نیچے چلتی ہیں۔ یہ تاریں وسطی مراکش میں صحرا کے ایک حصے سے جوڑی جائیں گی۔

سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک بھی بجلی پیدا کرنے کے لیے درکار توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس وقت سعودی عرب کی بجلی قدرتی گیس سے 52 فیصد، تیل سے 40 فیصد اور بھاپ سے 8 فیصد پیدا ہوتی ہے۔

بجلی کی شدید قلت کے باعث سعودی عرب کو 2032 تک اپنی 55 گیگا واٹ کی صلاحیت کو 120 گیگا واٹ تک بڑھانا ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں