لگتا نہیں ٹرمپ کیپٹل ہل حملہ کیس میں کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے: پلوسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی نے اتوار کے روز سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ کانگریس کے اس حکم نامے پر عمل درآمد کرنے کے لیے "کافی آدمی نہیں ہیں" جو انھیں کیپیٹل ہل حملے میں ان کے کردار کی تحقیقات کرنے والی خصوصی کمیٹی کے سامنے گواہی دینے پر مجبور کرسکے۔

پیلوسی نے ایم ایس این بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا "مجھے نہیں لگتا کہ وہ حاضری دینے کے لیے کافی آدمی ہے ۔ مجھے نہیں لگتا کہ وکلا ٹرمپ کو حاصل کرنے کی خواہاں ہوں گے کیونکہ وہاں ٹرمپ کو حلف کے تحت گواہی دینا ہوگی۔

رائٹرز کے مطابق نینسی پلوسی نے یہ بھی دہرایا کہ ہم دیکھیں گے کہ آیا وہ حاضری کے لیے کافی آدمی ہے۔

طلبی کا سمن

پیلوسی کے تبصرے اس وقت سامنے آئے جب جمعہ کو سلیکٹ کمیٹی نے اعلان کیا تھا کہ اس نے ٹرمپ کو ایک سمن جاری کر دیا ہے ۔ اس سمن میں انہیں اپنے حامیوں کے 6 جنوری 2021 کے خونی حملے سے پہلے اور اس کے بعد کی سرگرمیوں سے متعلق دستاویزات کا ایک بڑا مجموعہ جمع کرانے کا کہا گیا ہے اور اس کے لئے چار نومبر تک کا وقت دیا ہے۔

کمیٹی نے سابق امریکی صدر کو بتایا کہ وہ چاہتی ہے کہ وہ 14 نومبر کو یا اس کے آس پاس گواہی کے لیے پیش ہوں۔

ٹرمپ پیش نہ ہوئے تو کیا ہوگا؟

ٹرمپ گواہی دینے یا مطلوبہ مواد فراہم کرنے کے لیے کانگریس کے سامنے پیش ہونے سے گریز کرتے ہیں تو پارلیمانی کمیٹی پورے کیس کو محکمہ انصاف کو بھیج سکتی ہے، جس کے نتیجے میں ٹرمپ کے خلاف مجرمانہ قانونی کارروائی کی توقع ہے۔

ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز پر مشتمل سات رکنی پینل نے گزشتہ ہفتے متفقہ طور پر ووٹ دیا تھا تاکہ سابق ریپبلکن صدر کو فسادات میں ان کے کردار کے بارے میں گواہی دینے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں