پُل اونچا ضرور ہے مگراتنا بھی اونچا نہیں: مصر میں ایک بریج توجہ کا مرکز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

گذشتہ چند دنوں سے مصر میں ایک پل کی تصاویر اور ویڈیوز نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے کارکنوں کو اپنی طرف متوجہ کررکھا ہے۔

تصاویر میں پل کی اونچائی پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں،جب کہ میڈیا پر کچھ تبصرہ نگاروں نے دعویٰ کیا کہ یہ انجینیرنگ کی خصوصیات کے مطابق نہیں ہے۔

تاہم حقیقت یہ ہے کہ پل کی تصاویرقریبی زاویوں سے لی گئی تھی اور پھر فوٹوشاپ پروگراموں کے ذریعے اس میں ترمیم کی گئی تھی جس کے بعد یہ بہت اونچا پل دکھائی دیتا ہے۔

لیکن یہ ایک عام پل ہے جسے "سمیرا موسیٰ پل" کہا جاتا ہے اور یہ ان نئے محوروں میں سے ایک ہے جسے تیز رفتار آپریٹنگ ریٹ کے ساتھ لاگو کیا جا رہا ہے۔

نیز یہ محور یا پل جو فیلڈ مارشل طنطاوی کی سڑک پر تیار کیا گیا ہے جو 4 پلوں کے سنگھم میں ہے۔

پل کی انجینیرنگ سیفٹی کی حد تک انجینیر انور امین جو سمیرا موسیٰ محور کے لیے ایگزیکیوٹنگ کمپنی کے ڈائریکٹر ہیں ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ اسے رنگ روڈ کے متوازی ڈیزائن کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پل ٹریفک کو جنوب کی سمت سے قاہرہ منتقل کرتا ہے۔ یہ پل روٹ نمبر ایک ، روٹ نمبر تین، سویز روڈ اور مقطم کے علاقے کو ملاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پل 10 لین پر مشتمل ہے اور اس کی پوری اونچائی 27 میٹر ہے۔

درایں اثنا مصری وزیر اعظم مصطفیٰ مدبولی نے تصدیق کی کہ ان کے ملک کی حکومت کے تیار کردہ اس منصوبے پرعمل درآمد کی رفتار پر تنقید کی جا رہی ہے جو کہ عجیب بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمیرا موسیٰ پل کے بارے میں جو کچھ سوشل میڈیا پرکہا گیا وہ حقیقت کے برعکس ہے۔ کچھ نظر آتا ہے وہ غلط ہے جو کہ "فوٹو شاپ" ٹیکنالوجی کے استعمال کا ثبوت ہے۔ تصویروں میں اس کی انجینیرنگ کی غلطی کو اجاگر کرنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پل اونچا ضرور ہے مگر جتنا کہ فوٹو شاپ کے ذریعے دکھایا گیا ہے ایسا بھی نہیں۔

انہوں نے نوجوانوں سے بھی کہا کہ وہ محتاط رہیں اور ریاست کے ان منصوبوں پر سوال اٹھانے میں ملوث نہ ہوں جو ملک کی ترقی کی علامت ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں