تیونس میں طلاق کی ترغیب دینے والے بینرز لگنے پر ہنگامہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

میاں بیوی کے درمیان طلاق کی مشاورت فراہم کرنے والی ویب سائٹ کے اشتہاری بینرز نے تیونس میں ہنگامہ برپا کر دیا۔

ان اشتہاری بینرز کو طلاق اور خاندانی ٹوٹ پھوٹ کی حوصلہ افزائی کرنے والا قرار دیا جا رہا یے۔

"طلاق آپ کا فیصلہ اور طریقہ کار ہم بتائیں گے" کے نعرے کے تحت دارالحکومت تیونس کی گلیوں میں لگائے گئے بینرز ایک نئی ویب سائٹ کی تشہیر کر رہے ہیں۔ یہ ویب سائٹ طلاق کے معاملات میں مہارت رکھتی ہے اور میاں بیوی کے درمیان اس عمل کو آسان بنانے کے لیے خدمات اور مشاورت فراہم کرتی ہے۔

طلاق میں مدد

ویب سائٹ شہریوں کو پیشکش کرتی ہے کہ وہ طلاق کے معاملات کو انجام دینے اور ان کی پیروی کرنے کی خدمات ویب سائٹ کے سپرد کریں، 1200 تیونسی دینار (تقریباً 400 ڈالر) سے شروع ہونے والی فیس کے بدلے میں ویب سائٹ سے منسلک ماہرین اس حوالے سے پوری مدد اور قانونی مشورہ فراہم کررہے ہیں۔

ایک بیان میں وکلا بار کے سربراہ ، حاتم المزیوں نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ "ایک وکیل کی دھوکہ دہی اور جعل سازی اور صرف اس کی اہلیت کے کاموں کو انجام دینے کی نمائندگی کرتا ہے" انہوں نے کہا کہ یہ کام کرنے والوں کے خلاف تمام قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے قانون اور سنگین کی خلاف ورزی پر مبنی زیادتی پر مبنی اور خطرناک طرز عمل اپنایا ہے ۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ شہریوں کے حقوق اور معلومات کے قوانین کے مطابق مناسب کارروائی کرے اور ان کو دیوانی اور تعزیراتی جرمانہ عائد کیا جائے۔

اشتعال انگیزی

تیونس کی میونسپلٹی نے ان بینرز کو "ایک قسم کی اشتعال انگیزی" اور "بے ایمانی کی تشہیر" قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ انہیں سڑکوں سے ہٹا دیا جائے ورنہ دو ہفتوں کے اندر انہیں ہٹا دیا جائے گا۔

سوشل میڈیا صارف محمد علی سمرانی نے اس اشتہاری مہم کی مذمت کی اور کہا کہ ان اشتہاری پوسٹرز اور ایسی ویب سائٹس کے ذریعہ طلاق اور خاندانی ٹوٹ پھوٹ کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ راودا سعیدی نے کہا یہ اشتہار "ایک قسم کا دھوکہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ویب سائٹس پر خاندانی راز شائع کرنا تیونس کی اقدار اور خاندانوں کے تقدس کی خلاف ورزی ہے ہے۔

غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تیونس میں سالانہ تقریباً 16 ہزار طلاق کے کیسز ریکارڈ ہوتے ہیں یعنی اوسطاً روزانہ 43 خواتین کو طلاق دی جاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں