جانسن کی رخصتی پر آن ائیر اظہار مسرت پر بی بی سی کی خاتون اینکر کی عارضی معطلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سابق برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے کنزرویٹو قیادت کی دوڑ سے دستبردار ہونے کے بعد ایک برطانوی نشریاتی ادارے کی خاتون براڈ کاسٹر کو براہ راست نشریات میں ہنسنے اور چہکتے ہوئے دکھائی دینے پر عارضی طور پر معطل کر دیا گیا۔

کہانی اس وقت شروع ہوئی جب خاتون میزبان مارٹن کروکسل نے بی بی سی نیٹ ورک پر اپنے شو ’’دی پیپرز‘‘ کا ان الفاظ سے آغاز کیا کہ ’’کیا مجھے اجازت ہے کہ میں اس طرح خوش ہوں؟ ٹھیک ہے، میں ہوں!"۔ یہ الفاظ اس وقت نشر کئے گئے جب چند منٹ قبل جانسن کی دستبرداری کی خبر نشر کی گئی تھی۔

ٹیلی گراف کے مطابق ناظرین نے دعویٰ کیا کہ اینکر غیر جانبدار اصولوں سے ہٹ گئی ہے۔ ناظرین نے میڈیا واچ ڈاگ ’’آف کام‘‘ سے اس معاملے کی شکایت بھی کردی۔ خود کروکسل جنہوں نے کئی دہائیاں بی بی سی کے لیے کام کیا ہے نے آن ائیر یہ کہا کہ میں نے تبصروں کے اصولوں کو توڑا ہے۔ "شاید مجھے ہنسنا نہیں چاہیے۔" انہوں نے مزید کہا "میں نے شاید ہنسی کی وجہ سے غیر جانبداری کے کچھ خوفناک اصول توڑ دیے تھے۔

گزشتہ شکایات

اسی مہینے کے دوسرے دن بی بی سی کو اتوار کے روز ایک نئے سیاسی پروگرام ’’لورا کونزبرگ ‘‘ کے متغلق 102 شکایات موصول ہوئیں، ان شکایات میں لزٹرس کے خلاف تعصب برتنے کی نشاندہی کی گئی تھی۔

بورس جانسن: رائیٹرز فائل فوٹو
بورس جانسن: رائیٹرز فائل فوٹو

اسی براڈکاسٹر کو ایک ماہ قبل خاص طور پر نئے پروگرام کے آغاز کی تاریخ پر اسی وجہ سے 144 شکایات موصول ہوئی تھیں۔ یہ وہ واقعہ تھا جس میں کامیڈین جو لیزیٹ کو خوش ہوتے اور طنزیہ انداز میں ٹیرس کی تعریف کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں