ایران مظاہرے

ایران:مہساامینی کی موت پراحتجاجی مظاہروں کے بعد1000 سے زیادہ افراد پرفردِجُرم عاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران میں عدلیہ نےمہسا امینی کی موت کے ردعمل میں ملک گیرمظاہروں کے سلسلے میں مزید 300 سے زیادہ افراد کے خلاف فرد جرم عاید کی ہے جس کے بعد مجموعی طور پر 1000 سے زیادہ افراد پر فرد جرم عاید کی جاچکی ہے۔

عدلیہ کی میزان آن لائن ویب سائٹ کے مطابق شمال مغربی صوبہ زنجان ،مغربی آذربائیجان اور شمال مشرقی سمنان میں ہونے والے مظاہروں پر 300 سے زیادہ افرادکے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

دریں اثناء صوبہ مغربی کردستان میں مہساامینی کے آبائی شہرسقزکے قبرستان میں ہزاروں افراد جمع ہوئے اورروایتی 40 روزہ سوگ کے اختتام پران کی قبر پر خراج عقیدت پیش کیا۔

ایرانی عدلیہ نے پیر کے روز تہران کے قریب واقع صوبہ البرزمیں 201 ’’فسادیوں‘‘ کے خلاف فردِ جرم عاید کرنے کا اعلان کیا تھا۔ان کے علاوہ تہران ، کردستان ، خوزستان ، قزوین اور اصفہان میں مظاہرین کے خلاف 630 سے زیادہ افراد کے خلاف فرد جرم عاید کی گئی ہے۔

چارافراد پر ایک ایسے جرم کا الزام عاید کیا گیا ہے جس میں انھیں سزائے موت کا سامنا ہوسکتا ہے۔انھیں محاربی قراردیا گیا ہے جبکہ دیگر پر’’ملک کی سلامتی کے منافی کام کرنے، حکومت کے خلاف’’پروپیگنڈا‘‘اور’’سکیورٹی فورسز پر حملوں کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

ایران میں 16 ستمبرکو 22 سالہ مہسا امینی کی تہران میں اخلاقی پولیس کے زیرحراست ہلاکت کے بعد سے مظاہرے جاری ہیں اور یہ نظام مخالف مکمل احتجاجی تحریک میں تبدیل ہوچکے ہیں۔

ان احتجاجی مظاہروں کے دوران میں سڑکوں پر ہونے والے تشدد کے نتیجے میں درجنوں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ان میں سے زیادہ ترمظاہرین ہیں اورسکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی مہلوکین میں شامل ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے ملک بھر سے سیکڑوں مظاہرین کو گرفتار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں