روس اور یوکرین

روسی میزائلوں اور ایرانی طیاروں نے یوکرین کے توانائی کے شعبے کا ایک تہائی تباہ کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یوکرین کے بجٹ میں متوقع 38 ارب ڈالر کے خسارے کو پورا کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ روسی میزائلوں اور ایرانی ساختہ ڈرونز نے یوکرین کے توانائی کے شعبے کے ایک تہائی سے زیادہ حصے کو تباہ کر دیا ہے۔ ادھر کل منگل کو یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لین نے کہا کہ دنیا کو وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے اور یوکرینیوں کو اپنے ملک کی تعمیر نو میں تیزی سے مدد کرنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین اس کام کے لیے اعتماد فراہم کر کے تعمیر نو کے اقدامات کو مربوط کرنے کے لیے تیار ہے۔

ارسولا وان نے برلین میں منعقدہ یوکرین کی تعمیر نو کے لیے منعقدہ ایک کانفرنس میں کہا کہ ہمارے پاس کھونے کے لیے کوئی وقت نہیں ہے۔ نقصان کا پیمانہ بہت زیادہ ہے۔ عالمی بینک نے نقصان کی لاگت کا تخمینہ 350 ارب یورو (345 بلین ڈالر) لگایا ہے"۔

انہوں نے تعمیر نو کے لیے ایک بین الاقوامی رابطہ پلیٹ فارم قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جلد سے جلد ترجیحی طور پر سال کے اختتام سے پہلے یا اگلے سال کے شروع میں ہمیں یوکرین کی مدد کے لیے مزید اقداما کرنا ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپی کمیشن اس کے لیے سیکریٹریٹ فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

دریں اثنا یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے منگل کو اپنے ملک کی تعمیر نو سے متعلق ایک کانفرنس میں کہا کہ روسی میزائلوں اور ایرانی ساختہ ڈرونز نے یوکرین کے توانائی کے شعبے کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ تباہ کر دیا ہے۔

انہوں نے برلن میں ہونے والی کانفرنس سے ویڈیو لنک کے ذریعے مزید کہا کہ یوکرین کو ابھی تک 17 ارب ڈالر کی لاگت کے ساتھ تیزی سے بحالی کے منصوبے کا "ایک فیصد" بھی نہیں ملا ہے۔

زیلنسکی نے کانفرنس کو بتایا کہ روس ہر چیز کو تباہ کر رہا ہے تاکہ ہمارے لیے موسم سرما میں گزرنا زیادہ مشکل ہو جائے۔ کانفرنس میں جرمن چانسلر اولاف شولز، یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین، اور کئی دیگر سینئر سیاستدانوں اور حکام نے شرکت کی۔

جنگ نے ستمبر کے آخر تک تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار مکانات اور 16,000 اپارٹمنٹ عمارتوں کو تباہ یا نقصان پہنچایا ہے۔ کیو سکول آف اکنامکس کے مطابق روس کی طرف سےیوکرین پرمسلط کردہ جنگ کے نتیجے میں اب تک 127 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا گیا ہے۔

پیر کوعالمی بینک نے اعلان کیا کہ اس نے یوکرین کو 24 فروری کو روس کے حملے اور اس کی سرزمین پر جاری جنگ کی وجہ سے فوری اخراجات کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد کے لیے اضافی 500 ملین ڈالر فراہم کیے ہیں۔

ایرانی ڈرونز

پیر کے روز یوکرینی صدر نے اعلان کیا کہ روس نے یوکرین میں اپنی بمباری کی مہم تیز کرنے کے لیے میں "تقریباً 2000" ایرانی ڈرون فراہم کرنے کی درخواست کی ہے، جو خاص طور پر بجلی کی پیداواری تنصیبات کو نشانہ بناتے ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق انہوں نے اسرائیلی اخبار "ہارٹز" کے زیر اہتمام ایک کانفرنس کے دوران کہا کہ "ہماری انٹیلی جنس کے مطابق روس نے اسے تقریباً 2000 ایرانی شاہد ڈرون فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔

زمینی طور پریوکرین کی فوج نے پیر کے روز اعلان کیا کہ اس نے ملک کے شمال مشرق میں واقع چار دیہاتوں سے روسی افواج کو نکال باہر کیا ہے، جہاں اس نے جوابی حملہ کرتے ہوئے، ستمبر میں ہزاروں مربع کلومیٹر کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب کیا۔

یوکرین کے جنرل سٹاف نے فیس بک پر لکھا کہ "کامیاب کارروائیوں کی بدولت ہماری افواج نے لوگانسک کے علاقے میں کرمازینیوکا، میاسواریوکا اور نیوسکی اور ڈونیٹسک کے علاقے میں نووسادووی کے دیہاتوں سے دشمن کو بھگا دیا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں