سعودی عرب کا شعبہ بینکاری مضبوط ہے،سرمایہ کاری میں 19 فی صداضافہ ہوا:وزیرخزانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے وزیرخزانہ محمد عبداللہ الجدعان نے کہا ہے کہ مملکت کا بینکاری کا شعبہ ’’بہت مضبوط‘‘ ہے اوراس شعبے میں لیکویڈیٹی کو کوئی چیلنج درپیش نہیں ہے۔

انھوں نے یہ بات العربیہ نیوزنیٹ ورک سے ایک خصوصی انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے بتایا کہ 2022 کے پہلے نو ماہ میں ملک میں سرمایہ کاری میں 19 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

الجدعان نے العربیہ ٹیلی ویژن سے جمعرات کو نشر ہونے والے انٹرویومیں مزید کہا کہ ’’مملکت کو اپنے اوراپنے عوام کے مفادات کے تحفظ کی بنا پرموردِالزام نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے‘‘۔

ان سے امریکی وزیرخارجہ انتھونی بلینکن کے ایک حالیہ بیان کے بارے میں پوچھا گیا تھاجس میں انھوں نے کہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو ازسرنو ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔

وزیرخزانہ نے واضح کیا کہ امریکا کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات اسٹریٹجک اوردہائیوں پرمحیط ہیں اور یہ تعلقات بدستورجاری رہیں۔

قبل ازیں امریکا میں متعیّن سعودی عرب کی سفیرشہزادی ریما بنت بندر نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہاکہ’’الریاض اور واشنگٹن کے درمیان دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لینا ایک ’’مثبت چیز‘‘ہے۔ وہ بائیڈن انتظامیہ کے حالیہ تبصروں کا جواب دے رہی تھیں جن میں اس نے کہا تھا کہ امریکا اوپیک پلس کے تیل کی پیداوارمیں کمی کے فیصلے کے بعد تعلقات کا ازسرنو جائزہ لینا چاہتا ہے۔

سعودی عرب کا کہناہے کہ اوپیک پلس کا تیل کی یومیہ پیداوارمیں کٹوتی کا فیصلہ اجتماعی اور ووٹ پر مبنی تھا اور یہ معاشی مقاصد کے لیے کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ صدر جوبائیڈن کے2021 میں اقتدارسنبھالنے کے بعد سے امریکااور سعودی عرب کے درمیان تعلقات غیرمستحکم ہیں اورانھوں نے خارجہ پالیسی کے محاذ پر متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ان میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو امریکی اسلحہ کی فروخت پر فوری طور پر پابندی، ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کوامریکا کی دہشت گردی کی بلیک لسٹ سے نکالنا اور ایران سے 2015ء میں طے شدہ مگر اب متروک جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی کوشش شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں