کشیدگی کے بڑھتے خطرات کے جلو میں پوتین جوہری تربیتی میدان میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

کریملن نے اعلان کیا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتین نے بدھ 26 اکتوبر کو روس کی سٹریٹجک ڈیٹرنس فورسز کی مشقوں میں شرکت کی جو خطرات کا جواب دینے کے لیے ذمہ دار فورس سمجھی جاتی اور یہ فورس ہی ایٹمی جنگ کی صورت میں متحرک ہوتی ہے۔

کریملن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ولادیمیر پوتین کی قیادت میں زمینی، سمندری اور فضائی اسٹریٹجک ڈیٹرنس فورسز نے مشقیں کیں اور بیلسٹک اور کروز میزائلوں کا عملی تجربہ کیا۔"

خاص طور پر روس کے مشرق بعید میں جزیرہ نما کمچٹکا پر ایک بیلسٹک میزائل اور دوسرا آرکٹک میں بحیرہ بیرنٹس کے پانیوں سے داغا گیا اور مشقوں میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے Tu-95 طیارے بھی شامل تھے۔

کریملن نے مزید کہا کہ "تزویراتی ڈیٹرنس مشق کے دوران جن مشنوں کی نشاندہی کی گئی تھی ان پر مکمل عمل درآمد کیا گیا اور تمام میزائلوں نے اپنے اہداف کو نشانہ بنایا۔"

روس کی اسٹریٹجک فورسز کو جوہری جنگ کی صورت میں خطرات کا جواب دینے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے اور وہ ICBMs، طویل فاصلے تک مار کرنے والے اسٹریٹجک بمبار طیاروں، آبدوزوں، بحری جہازوں اور بحری ہوا بازی سے لیس ہیں۔ یہ مشقیں روس کے یوکرین پر حملے کےدوران ہو رہی ہیں اور اس جنگ کی وجہ سے روس مغرب کے ساتھ کشیدگی بڑھا رہا ہے۔

روسی حکام نے طویل عرصے سے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے ملک کو کوئی وجودی خطرہ ہوا تو وہ جوہری ہتھیار استعمال کریں گے۔

ڈرٹی بم

دریں اثنا ماسکو میں وزارت دفاع کے مطابق روسی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو نے بدھ کے روز اپنے چینی ہم منصب وی فینگے کے ساتھ ایک ویڈیو کال میں یہ الزام دہرایا کہ یوکرین روس کو ڈرٹی بم سے اکسانے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

وزارت دفاع نے کہا کہ "یوکرین کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور جنرل سرگئی شوئیگو نے اپنے چینی ہم منصب سے یوکرین کی جانب سے ڈرٹی بم کے استعمال سے ممکنہ اشتعال انگیزی پر تشویش کا اظہار کیا۔"

وزارت نے ایک بیان میں یہ بھی اعلان کیا کہ شوئیگو نے اپنے ہندوستانی ہم منصب راج ناتھ سنگھ کے ساتھ ٹیلیفون پر بات چیت کے دوران اسی "تشویش" کا اظہار کیا تھا۔

ڈرٹی بم ایک روایتی بم ہے جو تابکار، حیاتیاتی یا کیمیائی مادوں سے گھرا ہوا ہے جو دھماکہ ہونے پر دھول کی شکل میں منتشر ہونا ہے۔

شوئیگو نے اتوار کو نیٹو ممالک میں اپنے متعدد ہم منصبوں کے ساتھ رابطوں کے دوران یوکرین پر ڈرٹی بم استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام لگایا تاہم کیف ان الزامات کو خطرناک جھوٹ سمجھتے ہوئے مسترد کرتا ہے۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بدھ کے روز صحافیوں کو بتایا کہ روس کے پاس موجودہ خطرہ ظاہر کرنے والی معلومات ہیں کہ "یوکرین ایسی تخریب کاری کی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔"

پیسکوف نے مزید کہا کہ ہم عزم کے ساتھ بین الاقوامی برادری کے سامنے اپنا نقطہ نظر پیش کرتے رہیں گے تاکہ ان کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ ایسے غیر ذمہ دارانہ رویے کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کریں۔"

70 ہزار سے زائد شہری بے گھر ہو چکے

حکام نے بدھ کے روز بتایا کہ 19 اکتوبر کو روس نواز حکام کی جانب سے انخلاء شروع کرنے کے بعد جنوبی یوکرین کے خیرسن علاقے میں "ایک ہفتے کے اندر" ستر ہزار سے زائد شہریوں نے اپنا گھر بار چھوڑ دیا۔

"مجھے یقین ہے کہ کراسنگ کی تنظیم کے بعد سے ایک ہفتے میں ستر ہزار سے زیادہ (لوگ) نکل چکے ہیں۔ یہ لوگ دریائے دنیپرو کے دائیں کنارے سے سامنے کے انتہائی بائیں کنارے کی طرف جار رہے ہیں۔

اثاثوں کی منتقلی

کریملن نے بدھ کے روز یہ بھی اعلان کیا کہ یوکرین کے چار خطوں کے اثاثے جن کے بارے میں روس نے کہا کہ اس نے گزشتہ ماہ الحاق کیا تھا، مستقبل میں روسی کمپنیوں کو منتقل کیے جا سکتئ ہیں۔

کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا کہ یہ معمول کی بات ہے کہ "دیے گئے اثاثوں" کو بیکار نہ چھوڑا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اس مسئلے سے نمٹے گی۔

یوکرین اس کے مغربی اتحادیوں اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اکثریتی ممالک نے روس کی طرف سے چاروں خطوں کے الحاق کو غیر قانونی قرار دینے کی مذمت کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں