اسرائیل کے ساتھ مشترکہ اقدار اور اہم تعلقات ہیں: ترکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکی کے وزیر دفاع ہولوسی آکار نے اس بات پر زور دیا کہ ترکی اور اسرائیل خطے کے اہم کھلاڑی ہیں اور اہم تعلقات کا اشتراک کرتے ہیں۔

ترکی وزیر دفاع نے اسرائیلی ہم منصب بینی گانٹز کے ساتھ ملاقات کی اور بات چیت کے اختتام پر مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم تاریخی اور ثقافتی سطحوں پر اسرائیل کے ساتھ مشترکہ اقدار رکھتے ہیں۔

ترکی اور اسرائیل کے درمیان تعلقات اور بالخصوص دفاع، سلامتی اور توانائی کے شعبوں میں بڑھتا تعاون علاقائی امن واستحکام کے حوالے سے اہم پیش رفت کا باعث بنے گا۔

مسئلہ فلسطین

ترک وزیر دفاع نے تصدیق کی کہ ان کی گانٹز کے ساتھ نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ہے، ہم نے معلومات اور خیالات کا تبادلہ کیا کہ ہم سلامتی اور استحکام کو بڑھانے اور خطے میں تعاون بڑھانے کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ترکی اور اسرائیل کے درمیان دفاع، دفاعی صنعت اور فوجی سکیورٹی تعاون کے میدان میں ماضی کا تجربہ اچھا رہا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون اور بات چیت سے کچھ مسائل خاص طور پر مسئلہ فلسطین کے حل میں آسانی ہو گی۔

مثبت سمت میں پیش رفت

گانٹز نے زور دیا کہ ترکی کے ساتھ تل ابیب کے تعلقات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور ہم اس کی حمایت جاری رکھیں گے۔

ترک اور اسرائیلی رہنما
ترک اور اسرائیلی رہنما

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ملکوں میں تجارت، سیاحت، صنعت اور بہت سے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ ہمارا مستقبل امید افزا ہے، تاہم یہ سب خطے اور دنیا میں استحکام اور سلامتی کو برقرار رکھنے میں ہمارے مشترکہ مفادات پر منحصر ہے۔

انہوں نے ترکی میں اسرائیلی شہریوں اور یہودیوں کو قابل تشویش حد تک لاحق خطرات کو کم کرنے میں ترک صدر ایردوان، وزیر دفاع آکار اور سکیورٹی اداروں کا شکریہ ادا کیا۔

انسداد دہشت گردی

انہوں نے کہا دہشت گردی اور اس کی مالی معاونت کرنے والوں سے نمٹنے کے لیے اسرائیل اور ترکی کو اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانا چاہیں۔ گانٹز نے مشرق وسطیٰ اور مشرقی بحیرہ روم میں ہونے والی پیش رفتوں کے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ترکی امریکہ کا اتحادی اور نیٹو کا رکن ہے۔ ترکی عالمی استحکام کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور ترکی کے تعلقات میں حال ہی میں مارچ میں اسرائیلی صدر اسحاق ہرتصوغ کے دورہ ترکی کے بعد تبدیلی آئی ہے۔ یہ 2007 کے بعد کسی اسرائیلی صدر کا اس ملک کا پہلا دورہ تھا۔ ترک وزیر خارجہ نے سفارتی تعلقات میں بہتری کے تناظر میں مئی کے آخر میں القدس کا غیر معمولی دورہ کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں