آٹھ نومبر کو وسط مدتی انتخابات، اوباما نے جمہوریت خطرے میں قرار دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکہ کے سابق صدر براک اوباما نے وسط مدتی انتخابات کے تناظر میں کہا ہے اگلے ماہ جمہوریت خطرے میں ہو سکتی ہے۔ ایک جمہوری پاور پلئیر اور اپنی جماعت میں غیر معمولی مقبول سابق صدر اوباما نے ڈیموکریٹس کی انتخابی مہم کے سلسلے میں جارجیا میں پہلے پڑاو پر تھے۔

اوباما نے کہا 'ہر شخص کو باہر نکلنا ہو گا تاکہ انتخابی حوالے سےسازشی تھیوریوں والوں کا راستہ روکا جائے اور ان کے ہاتھوں کو اقتدار کے کنٹرول پر نہ آنے دیا جائے۔

سابق صدر نے اپنے خطاب میں کہا 'یہ کافی نہیں ہے کہ ڈیمو کریٹس کو انتخابی بیلٹ کے اوپر والے خانے میں چن لیا جائے۔ 'ضرورت ہے کہ ہم اچھے لوگوں کا انتخاب اوپر اور نیچے ہر سطح پر کریں ۔'

انہوں نے کہا ' بعض وہ لوگ الیکشن کے لیے بھاگ دوڑ کر رہے تھا انہوں نے ہماری جمہوریت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی۔ اگر یہ جیت گئے تو کوئی بھی نہیں کہہ سکتا کہ پھر ملک میں کیا ہوگا ، یا ہمارا مستقبل کیا ہوگا۔'

سابق صدر جو 2017 میں وائٹ ہاوس سے نکلنے کے بعد دھیمے انداز کی زندگی گذار رہے ہیں۔ جارجیا میں ایک ریلی میں مہمان خصوصی تھے۔ جہاں دونوں ریاستوں میں مقابلہ بڑا سخت ہے اور دسیوں ملین ڈالرانیدھن میں جھونک کر امریکہ پر کنٹرول کی کوشش کی جارہی ہے۔

ڈیمو کریٹک پارٹی کے رافیل وارنوک جو اس ریاست سے پہلے سیاہ فام سینیٹرجیتے تھے اب ٹرمپ کے حمایت یافتہ سابق فٹ بالر کے مقابل کھڑے ہیں۔

یہ الیکشن اس ناطے بڑا اہم ہے کہ اس سے اندازہ ہو جائے گا کہ سینیٹ میں کس جماعت کا پلڑا بھاری رہے گا اور یہاں سے جیتنے والا سینیٹر جو بائیڈن کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بنے گا یا جوبائیڈن کے لیے مایوسی میں اضافہ کرے گا۔

اوباما نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اسقاط حمل کے حوالے سے قانون سازی پر بات کرتے ہوئے اسقاط حمل کے قانون کی حمایت کی۔ انہوں نے 2020 کے صدراتی انتخاب میں دھاندلی کرنے کے ٹرمپ کے الزام کو بھی مسترد کر دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں