بھارت اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی فنڈ میں پانچ لاکھ ڈالرعطیہ کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت عالمی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی کوششوں میں پانچ لاکھ ڈالر کا تعاون کرے گا۔

اس بات کا اعلان بھارتی وزیرخارجہ سبرامنیم جے شنکر نے نئی دہلی میں اقوام متحدہ کی انسداد دہشت گردی کمیٹی کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ رقم انسداد دہشت گردی کے لیے اقوام متحدہ کے ٹرسٹ فنڈ میں دی جائے گی اور اس سے دہشت گردی کے خلاف عالمی ادارے کی جنگ کو مزید تقویت ملے گی۔

یہ پہلاموقع ہے جب اس طرح کی کانفرنس نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدردفاترسے باہرمنعقد کی گئی ہے۔اس دوروزہ کانفرنس میں نئی ٹیکنالوجی سے لیس دہشت گرد گروہوں کی طرف سے درپیش خطرات سے نمٹنے پر توجہ مرکوزکی گئی ہے اور اس سے مختلف ممالک اور عالمی اداروں کے حکام نے خطاب کیا ہے۔

جے شنکرنے کہاکہ پیغام رسانی کی انکرپٹڈ سروسز اوربلاک چین جیسی نئی ٹکنالوجیوں کا دہشت گرد گروپ اور بدخواہ عناصر کی جانب سے تیزی سے غلط استعمال کیا جارہا ہے۔بین الاقوامی برادری کو ان خطرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنے کی فوری ضرورت ہے۔

جے شنکرنے دہشت گرد گروپوں اورمجرمانہ تنظیموں کے ڈرون جیسے بغیرپائلٹ کے فضائی نظام کے استعمال سے بڑھتے ہوئے خطرے پر بھی روشنی ڈالی اورانھیں دنیا بھرمیں سکیورٹی ایجنسیوں کے لیے ایک چیلنج قراردیا ہے۔

انھوں نے مزید کہاکہ افریقا میں دہشت گرد گروہوں کی جانب سے سکیورٹی فورسز اور یہاں تک کہ اقوام متحدہ کے امن دستوں کی نقل وحرکت پر نظر رکھنے کے لیے ڈرونز کا استعمال کیاجارہا ہے جس کی وجہ سے وہ دہشت گرد حملوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

برطانوی وزیرخارجہ جیمز کلیورلی نے اس موقع پر بغیر پائلٹ کے فضائی پلیٹ فارمز کے خطرات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے نظام کو دہشت گردی، موت اور تباہی پھیلانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یوکرین پر روس کے وحشیانہ حملے میں اہم قومی انفراسٹرکچر اور سویلین اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے اس وقت ڈرونز کا استعمال کیا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے روس کو ڈرونز مہیّا کرنے میں ملوّث تین ایرانی فوجی کمانڈروں اور ایک ایرانی کمپنی پر پابندیاں عاید کی ہیں۔

اس خصوصی کانفرنس کا آغازجمعہ کو بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی اور مالیاتی اور تفریحی دارالحکومت ممبئی میں بیک وقت ہوا تھا اور ان دونوں شہروں میں کانفرنس کے مختلف سیشن منعقد کیے گئے ہیں۔

یادرہے کہ ممبئی میں 2008 میں ایک بڑے دہشت گرد حملے کے نتیجے میں 140 بھارتی شہری اور 23 دوسرے ممالک کے 26 شہری دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاک ہو گئے تھے۔دہشت گردوں نے شہر کے مختلف مقامات پرفائرنگ کی تھی اور بم دھماکے کیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں